LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا: خواجہ آصف مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ

پھینکے گئے آلو جلد سنوارنے کا خزانہ بن گئے ، سائنسدانوں کی حیران کن دریافت

Web Desk

1 December 2025

سائنس اور صحت کی دنیا میں آلو ایک نئی بحث چھیڑ چکے ہیں۔ اس بار یہ نہ کھانوں کے ذائقے کا حصہ ہیں، نہ ڈائیٹ پلان کی توجہ، بلکہ حیران کن طور پر جدید تحقیق نے انہیں بیوٹی انڈسٹری کا ممکنہ ’’انقلابی جز‘‘ قرار دے دیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابردین کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ آلو کے وہ پتے اور ٹہنیاں جو فصل کی کٹائی کے بعد عام طور پر پھینک دی جاتی ہیں، قیمتی اسکن کیئر انگریڈیئنٹس میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ ان حصوں میں سولانیسول نامی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے، جو اینٹی ایجنگ اور موئسچرائزنگ پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی مصنوعات کا بنیادی جز ہے۔

اب تک سولانیسول کا بڑا ذریعہ تمباکو تھا، لیکن نئی تحقیق کہتی ہے کہ آلو اس کا زیادہ محفوظ، کم خرچ اور ماحول دوست متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ صرف اسکاٹ لینڈ میں آلو کے بیجوں کی سالانہ کاشت 12,800 ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہوتی ہے، اور اسی فضلے کو استعمال کرلیا جائے تو یہ بیوٹی انڈسٹری کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ بن سکتا ہے۔

پراجیکٹ لیڈ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’آلو کی صنعت کا اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا، جبکہ پروفیسر ہیذر ولسن کے مطابق یہ ریسرچ بہترین مثال ہے کہ کس طرح ’’زرعی فضلہ سونے میں بدلا جاسکتا ہے‘‘ اور دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ٹک ٹاک پر آلو کا بیوٹی ٹرینڈ:

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا  خصوصاً ٹک ٹاک پر  لوگ آلو کو پہلے ہی اسکن ٹریٹمنٹ کے طور پر آزما رہے ہیں۔
کوئی آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز کم کرنے کے لیے آلو کے ٹکڑے رکھتا ہے، کوئی اسے پمپل پیچ کے طور پر استعمال کرتا ہے، جبکہ کچھ صارفین آلو رگڑ کر چہرے کے داغ دھبے کم کرنے کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک صارف نے ویڈیو میں کہا، ’’آلو آنکھوں کے نیچے کنسیلر کی طرح کام کرتا ہے!‘‘ جبکہ دوسرے صارف کا دعویٰ تھا کہ ’’اس سے ڈارک سرکلز اور اسکارنگ فوراً کم ہوتی ہے۔‘‘

غذائیت کے ماہرین کے مطابق آلو  خاص طور پر شکر قندی  میں موجود بیٹا کیروٹین اور لائکوپین جلد کی چمک بڑھانے اور سورج کی شعاعوں سے قدرتی تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ممکن ہے مستقبل میں جھریاں کم کرنے والے سیرم، ڈارک سرکلز ختم کرنے والی کریم اور چمک بڑھانے والے ماسک  سب کچھ آلو سے تیار ہو۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’فارم ٹو فیس‘‘ کا نیا دور شروع ہونے والا ہے، اور اس میں آلو مرکزی کردار نبھانے کے لیے بالکل تیار ہے۔