LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی

پھینکے گئے آلو جلد سنوارنے کا خزانہ بن گئے ، سائنسدانوں کی حیران کن دریافت

Web Desk

1 December 2025

سائنس اور صحت کی دنیا میں آلو ایک نئی بحث چھیڑ چکے ہیں۔ اس بار یہ نہ کھانوں کے ذائقے کا حصہ ہیں، نہ ڈائیٹ پلان کی توجہ، بلکہ حیران کن طور پر جدید تحقیق نے انہیں بیوٹی انڈسٹری کا ممکنہ ’’انقلابی جز‘‘ قرار دے دیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابردین کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ آلو کے وہ پتے اور ٹہنیاں جو فصل کی کٹائی کے بعد عام طور پر پھینک دی جاتی ہیں، قیمتی اسکن کیئر انگریڈیئنٹس میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ ان حصوں میں سولانیسول نامی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے، جو اینٹی ایجنگ اور موئسچرائزنگ پروڈکٹس میں استعمال ہونے والے Coenzyme Q10 اور Vitamin K2 جیسی مصنوعات کا بنیادی جز ہے۔

اب تک سولانیسول کا بڑا ذریعہ تمباکو تھا، لیکن نئی تحقیق کہتی ہے کہ آلو اس کا زیادہ محفوظ، کم خرچ اور ماحول دوست متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔ صرف اسکاٹ لینڈ میں آلو کے بیجوں کی سالانہ کاشت 12,800 ہیکٹر سے زائد رقبے پر ہوتی ہے، اور اسی فضلے کو استعمال کرلیا جائے تو یہ بیوٹی انڈسٹری کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ بن سکتا ہے۔

پراجیکٹ لیڈ سوفیا الیکسیو نے اسے ’’آلو کی صنعت کا اہم سنگ میل‘‘ قرار دیا، جبکہ پروفیسر ہیذر ولسن کے مطابق یہ ریسرچ بہترین مثال ہے کہ کس طرح ’’زرعی فضلہ سونے میں بدلا جاسکتا ہے‘‘ اور دیہی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ٹک ٹاک پر آلو کا بیوٹی ٹرینڈ:

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا  خصوصاً ٹک ٹاک پر  لوگ آلو کو پہلے ہی اسکن ٹریٹمنٹ کے طور پر آزما رہے ہیں۔
کوئی آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز کم کرنے کے لیے آلو کے ٹکڑے رکھتا ہے، کوئی اسے پمپل پیچ کے طور پر استعمال کرتا ہے، جبکہ کچھ صارفین آلو رگڑ کر چہرے کے داغ دھبے کم کرنے کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک صارف نے ویڈیو میں کہا، ’’آلو آنکھوں کے نیچے کنسیلر کی طرح کام کرتا ہے!‘‘ جبکہ دوسرے صارف کا دعویٰ تھا کہ ’’اس سے ڈارک سرکلز اور اسکارنگ فوراً کم ہوتی ہے۔‘‘

غذائیت کے ماہرین کے مطابق آلو  خاص طور پر شکر قندی  میں موجود بیٹا کیروٹین اور لائکوپین جلد کی چمک بڑھانے اور سورج کی شعاعوں سے قدرتی تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ممکن ہے مستقبل میں جھریاں کم کرنے والے سیرم، ڈارک سرکلز ختم کرنے والی کریم اور چمک بڑھانے والے ماسک  سب کچھ آلو سے تیار ہو۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’فارم ٹو فیس‘‘ کا نیا دور شروع ہونے والا ہے، اور اس میں آلو مرکزی کردار نبھانے کے لیے بالکل تیار ہے۔