LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی

پاکستانی معیشت شدید دباؤ کا شکار، قرضوں اور ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ

Web Desk

22 February 2026

پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں بڑھتے ہوئے قرضے اور ٹیکسوں کا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل مالی بے ضابطگیاں ملک کو بار بار عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور کر رہی ہیں، جہاں وقتی ریلیف تو ملتا ہے مگر بنیادی مسائل برقرار رہتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی خسارہ 6 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جو تقریباً مکمل طور پر سودی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ خالص سودی ادائیگیاں حکومتی ٹیکس آمدن سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس سے ماہرین ایک ممکنہ مالیاتی بحران کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے دو ہی ذرائع ہیں: ٹیکس اور قرضہ، تاہم پاکستان ٹیکس وصولیوں میں مسلسل ناکام رہا ہے، جبکہ قرض لینے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ملک قرضوں کے جال میں پھنستا چلا گیا ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم نئی بیرونی فنانسنگ سے زیادہ ہو چکا ہے، جو تشویشناک امر ہے۔

گزشتہ دو بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور ہنر مند افراد بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو کام اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ انہیں دبائے۔

تجاویز میں سادہ اور کم شرح والے ٹیکس نظام، وسیع ٹیکس بنیاد، غیر ضروری چھوٹ اور استثنیٰ کا خاتمہ، آزاد تجارت کا فروغ، سرکاری اخراجات میں کمی، مستحکم مالیاتی پالیسی اور نجکاری شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق پائیدار اور تیزرفتار معاشی ترقی ہی واحد حل ہے، جس کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ اصلاحات ناگزیر ہیں، اور بیرونی سہاروں پر انحصار کے بجائے اصلاحات کے ذریعے ہی ملک کو معاشی بحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔