LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرولیم ڈیلرز کی حکومت کو 26 مارچ تک ڈیڈ لائن، مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں پمپ بند کرنے کی دھمکی ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری جمعة الوداع کے اجتماعات، یوم القدس کی ریلیاں، سکیورٹی ہائی الرٹ ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ گئیں مشرقِ وسطیٰ کیلئے پاکستان سے پروازوں کا آپریشن بتدریج بحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کر دیا امریکی ایندھن بردار طیارہ عراق میں گر کر تباہ، 6 افراد سوار تھے یوم القدس اور متوقع جمعۃ الوداع کے موقع پر سندھ میں آج سرکاری تعطیل ہوگی دبئی حکومت نے عیدالفطر کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کردیا

پاکستانی معیشت شدید دباؤ کا شکار، قرضوں اور ٹیکسوں کا بڑھتا بوجھ

Web Desk

22 February 2026

پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں بڑھتے ہوئے قرضے اور ٹیکسوں کا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل مالی بے ضابطگیاں ملک کو بار بار عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور کر رہی ہیں، جہاں وقتی ریلیف تو ملتا ہے مگر بنیادی مسائل برقرار رہتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی خسارہ 6 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جو تقریباً مکمل طور پر سودی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ خالص سودی ادائیگیاں حکومتی ٹیکس آمدن سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس سے ماہرین ایک ممکنہ مالیاتی بحران کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے دو ہی ذرائع ہیں: ٹیکس اور قرضہ، تاہم پاکستان ٹیکس وصولیوں میں مسلسل ناکام رہا ہے، جبکہ قرض لینے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ملک قرضوں کے جال میں پھنستا چلا گیا ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم نئی بیرونی فنانسنگ سے زیادہ ہو چکا ہے، جو تشویشناک امر ہے۔

گزشتہ دو بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور ہنر مند افراد بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو کام اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ انہیں دبائے۔

تجاویز میں سادہ اور کم شرح والے ٹیکس نظام، وسیع ٹیکس بنیاد، غیر ضروری چھوٹ اور استثنیٰ کا خاتمہ، آزاد تجارت کا فروغ، سرکاری اخراجات میں کمی، مستحکم مالیاتی پالیسی اور نجکاری شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق پائیدار اور تیزرفتار معاشی ترقی ہی واحد حل ہے، جس کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ اصلاحات ناگزیر ہیں، اور بیرونی سہاروں پر انحصار کے بجائے اصلاحات کے ذریعے ہی ملک کو معاشی بحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔