LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت کا دہشت گردی ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن، پانچ گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی: پاک فوج وزیراعظم کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح، دانش سکول قائم کرنے کا اعلان پاکستان،ڈیرہ غازی خان میں نجی سکول کی چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق معرکہ حق میں انٹیلی جنس اداروں نے بڑا اہم کردار ادا کیا: محسن نقوی امریکہ اور ایران میں معاہدہ جلد متوقع، پاکستان کا پانی کوئی چوری نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ قومی دفاع میں فضائیہ کا کردار تاریخی، سرینگر سے بھٹنڈا تک سبق سکھایا: ایئرچیف قوم کا اتحاد سب سے بڑی طاقت، مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت کا غرور ملیا میٹ کرنے والی پاک فضائیہ کے شاہینوں کیلئے پروقار تقریب ایران جوہری پروگرام جاری نہ رکھنے پر آمادہ ہو گیا: صدر ٹرمپ کا دعویٰ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا اور ایران کے درمیان عارضی معاہدے کا امکان، آئندہ 48 گھنٹے اہم قرار معرکہ حق نے قوم کو اعتماد اور قوت دی، دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: افواجِ پاکستان امریکا : فیفا فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے باوجود ہوٹل بکنگ توقعات سے کم، بڑی تعداد میں ہوٹل مالکان مایوس ایران اورامریکا جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ گئے، امریکی میڈیا ایران نے معاہدہ قبول کرلیاتوجنگ ختم، آبنائے ہرمزکھل جائے گی ورنہ پہلے سے شدید بمباری ہوگی، ٹرمپ

تماشائیوں کے بغیر پی ایس ایل 11، پی سی بی کو کتنا مالی نقصان ہوگا؟

Web Desk

29 March 2026

لاہور: پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو تماشائیوں کے بغیر محدود پیمانے پر منعقد کرنے کے فیصلے کے بعد اس کے مالی اثرات پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت لیگ کو صرف دو شہروں تک محدود رکھنے اور اسٹیڈیمز میں شائقین کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث آمدنی میں نمایاں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس اسٹیڈیمز میں شائقین کی بڑی تعداد کی آمد سے تقریباً پچاس کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی، جو اس بار مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

پی ایس ایل کے مالیاتی ڈھانچے کے تحت ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے مرکزی آمدنی کے ذخیرے میں شامل کیا جاتا ہے، جس میں نشریاتی حقوق، سرپرستی اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔

یہ مجموعی رقم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت تقسیم کی جاتی ہے، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ معمولی حصہ رکھتا ہے جبکہ اکثریت رقم فرنچائزز میں برابر تقسیم ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر سن 2023 میں لیگ کی مجموعی آمدنی تقریباً پانچ ارب باسٹھ کروڑ روپے رہی، جس میں سے بورڈ کو تقریباً اٹھاون کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم ٹیموں میں تقسیم کی گئی۔

ماہرین کے مطابق چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی نظام کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے تماشائیوں کی عدم موجودگی کا اثر تمام ٹیموں پر یکساں پڑے گا۔ تاہم بورڈ کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اس مالی خسارے کو خود برداشت کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے، مگر خالی اسٹیڈیمز میں میچز کے انعقاد سے کھیل کا جوش و خروش اور ماحول بری طرح متاثر ہو گا، جس کی تلافی آسان نہیں۔