LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

تماشائیوں کے بغیر پی ایس ایل 11، پی سی بی کو کتنا مالی نقصان ہوگا؟

Web Desk

29 March 2026

لاہور: پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو تماشائیوں کے بغیر محدود پیمانے پر منعقد کرنے کے فیصلے کے بعد اس کے مالی اثرات پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت لیگ کو صرف دو شہروں تک محدود رکھنے اور اسٹیڈیمز میں شائقین کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث آمدنی میں نمایاں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس اسٹیڈیمز میں شائقین کی بڑی تعداد کی آمد سے تقریباً پچاس کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی، جو اس بار مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

پی ایس ایل کے مالیاتی ڈھانچے کے تحت ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے مرکزی آمدنی کے ذخیرے میں شامل کیا جاتا ہے، جس میں نشریاتی حقوق، سرپرستی اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔

یہ مجموعی رقم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت تقسیم کی جاتی ہے، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ معمولی حصہ رکھتا ہے جبکہ اکثریت رقم فرنچائزز میں برابر تقسیم ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر سن 2023 میں لیگ کی مجموعی آمدنی تقریباً پانچ ارب باسٹھ کروڑ روپے رہی، جس میں سے بورڈ کو تقریباً اٹھاون کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم ٹیموں میں تقسیم کی گئی۔

ماہرین کے مطابق چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی نظام کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے تماشائیوں کی عدم موجودگی کا اثر تمام ٹیموں پر یکساں پڑے گا۔ تاہم بورڈ کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اس مالی خسارے کو خود برداشت کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے، مگر خالی اسٹیڈیمز میں میچز کے انعقاد سے کھیل کا جوش و خروش اور ماحول بری طرح متاثر ہو گا، جس کی تلافی آسان نہیں۔