LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی گوجرانوالہ دن دیہاڑے لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ‘سی پی ایس پی’ کی جانب سے اعزازی فیلوشپ ڈگری سے نواز دیا گیا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم لبنان اور اسرائیل میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، واشنگٹن میں مذاکرات کا پانچواں دور شروع اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، اسپیکر قومی اسمبلی کے رویے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، بجٹ مسترد پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، چار بلز کی منظوری پاکستان اور ایران کا برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ فیلڈمارشل سے ایرانی صدر کی ملاقات، علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

تماشائیوں کے بغیر پی ایس ایل 11، پی سی بی کو کتنا مالی نقصان ہوگا؟

Web Desk

29 March 2026

لاہور: پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو تماشائیوں کے بغیر محدود پیمانے پر منعقد کرنے کے فیصلے کے بعد اس کے مالی اثرات پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت لیگ کو صرف دو شہروں تک محدود رکھنے اور اسٹیڈیمز میں شائقین کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث آمدنی میں نمایاں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس اسٹیڈیمز میں شائقین کی بڑی تعداد کی آمد سے تقریباً پچاس کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی، جو اس بار مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

پی ایس ایل کے مالیاتی ڈھانچے کے تحت ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے مرکزی آمدنی کے ذخیرے میں شامل کیا جاتا ہے، جس میں نشریاتی حقوق، سرپرستی اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔

یہ مجموعی رقم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت تقسیم کی جاتی ہے، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ معمولی حصہ رکھتا ہے جبکہ اکثریت رقم فرنچائزز میں برابر تقسیم ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر سن 2023 میں لیگ کی مجموعی آمدنی تقریباً پانچ ارب باسٹھ کروڑ روپے رہی، جس میں سے بورڈ کو تقریباً اٹھاون کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم ٹیموں میں تقسیم کی گئی۔

ماہرین کے مطابق چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی نظام کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے تماشائیوں کی عدم موجودگی کا اثر تمام ٹیموں پر یکساں پڑے گا۔ تاہم بورڈ کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اس مالی خسارے کو خود برداشت کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے، مگر خالی اسٹیڈیمز میں میچز کے انعقاد سے کھیل کا جوش و خروش اور ماحول بری طرح متاثر ہو گا، جس کی تلافی آسان نہیں۔