LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سفارتی سرگرمیوں کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ پاکستان کا آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری نقل و حرکت کی بحالی کا مطالبہ وزیراعظم سے ترک وزیر خارجہ کی ملاقات، طیب اردوان کا اہم پیغام پہنچا دیا ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز

تماشائیوں کے بغیر پی ایس ایل 11، پی سی بی کو کتنا مالی نقصان ہوگا؟

Web Desk

29 March 2026

لاہور: پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو تماشائیوں کے بغیر محدود پیمانے پر منعقد کرنے کے فیصلے کے بعد اس کے مالی اثرات پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت لیگ کو صرف دو شہروں تک محدود رکھنے اور اسٹیڈیمز میں شائقین کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث آمدنی میں نمایاں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس اسٹیڈیمز میں شائقین کی بڑی تعداد کی آمد سے تقریباً پچاس کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی، جو اس بار مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔

پی ایس ایل کے مالیاتی ڈھانچے کے تحت ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے مرکزی آمدنی کے ذخیرے میں شامل کیا جاتا ہے، جس میں نشریاتی حقوق، سرپرستی اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔

یہ مجموعی رقم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت تقسیم کی جاتی ہے، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ معمولی حصہ رکھتا ہے جبکہ اکثریت رقم فرنچائزز میں برابر تقسیم ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر سن 2023 میں لیگ کی مجموعی آمدنی تقریباً پانچ ارب باسٹھ کروڑ روپے رہی، جس میں سے بورڈ کو تقریباً اٹھاون کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم ٹیموں میں تقسیم کی گئی۔

ماہرین کے مطابق چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی نظام کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے تماشائیوں کی عدم موجودگی کا اثر تمام ٹیموں پر یکساں پڑے گا۔ تاہم بورڈ کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اس مالی خسارے کو خود برداشت کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے، مگر خالی اسٹیڈیمز میں میچز کے انعقاد سے کھیل کا جوش و خروش اور ماحول بری طرح متاثر ہو گا، جس کی تلافی آسان نہیں۔