LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کے حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر تین میزائل حملے، 53 افراد جاں بحق جرمنی کا یہودی شخصیات کے قتل کی مبینہ سازش پر ایرانی سفیر سے سخت احتجاج ایلون مسک کا اگلے سال امریکہ کے ہر بچے کو سپیس ایکس کے حصص دینے کا اعلان جنگ کے اخراجات نے ایران کے دشمنوں کو مایوسی سے دوچار کر دیا: محمد مخبر نومنتخب سعودی سفیر کی جی ایچ کیو آمد: فیلڈ مارشل سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال ٹرمپ کی جانب سے روس پر مجوزہ پابندیاں ختم کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی قطر نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی، پاکستان سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے: محسن نقوی پاور اور گیس شعبوں کا مجموعی گردشی قرضہ 5306 ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا شہباز شریف نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو وزیراعظم ہاؤس طلب کر لیا قطر کا جلد نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کے اعلان کا فیصلہ فضل الرحمان سیاسی مقاصد کیلئے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں: حنیف عباسی حملوں کا خطرہ، امریکا کا مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ پنجاب حکومت کا جاسوسی کے آلات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سینیٹ میں عائلی قوانین، نجی سکیورٹی گارڈز کے حقوق سمیت 9 بل پیش حیدرآباد کا 38 سالہ شخص ریبیز کے باعث انتقال کرگیا

فرحان سعید نے تشدد پسند کرداروں کو مسترد کرنے کی وجہ بتادی

Web Desk

30 November 2025

فرحان سعید نے حال ہی میں مہوش اعجاز کے یوٹیوب پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر، کرداروں کے انتخاب اور ڈراما انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر کھل کر گفتگو کی۔

اداکار نے بتایا کہ ماضی میں انہیں ایسے ڈراموں کی پیشکش کی جاتی تھی جن میں مرکزی ہیرو تشدد کرتا ہے یا زبردستی محبت کا اظہار کرتا ہے، تاہم وہ ایسے کردار فوراً ٹھکرا دیتے تھے۔ان کے مطابق اسی وجہ سے اب انہیں اس نوعیت کے ڈراموں کی پیشکش نہیں کی جاتی، بلکہ زیادہ تر مثبت اور اچھے ہیرو والے کردار ہی انہیں آفر کیے جاتے ہیں، جنہیں وہ ترجیح دیتے ہیں۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے کہ ڈراما تعلیم یا تربیت دینے کے لیے بنتا ہے، کیونکہ ان کے مطابق ڈرامے کا بنیادی مقصد تفریح ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناظرین کو بھی ڈرامے کو تفریح ہی سمجھ کر دیکھنا چاہیے اور اگر کسی کو کوئی ڈراما پسند نہ آئے تو وہ دوسرا ڈراما دیکھ لے، کیونکہ دیکھنے پر کوئی زور زبردستی نہیں ہوتی۔تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ ڈراموں سے لوگ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور ان کے باعث معاشرتی رویے بھی تبدیل ہوتے ہیں، اسی لیے ان کے خیال میں ڈرامے بناتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔گفتگو کے دوران انہوں نے ایک حالیہ ڈرامے کی مثال بھی دی، جس میں ہیرو ہیروئن کے سر پر اپنی گردن رکھ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایسا دکھایا جا سکتا ہے، لیکن اس کردار کو بعد میں سزا بھی ملنی چاہیے، نہ کہ ایک پرانے ڈرامے کی طرح ہیرو کے ایک اچھے کام پر ہیروئن فوراً دل دے بیٹھے