LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگی، ججز کے فیصلوں سے امید پیدا ہوئی: علیمہ خان فیلڈ مارشل کا دورہ کامیاب، نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے: ایرانی صدارتی دفتر حکومت نے خلوص نیت سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا: رانا ثناء اللہ 27 اگست سے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، پی ٹی آئی کی توہین عدالت کی درخواست پر اعتراضات دور عمران خان کا علاج: جمائما کی جانب سے برطانوی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مداخلت کی درخواست غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: عدالت امریکا کا H-1B ویزا کیپ پٹیشنز پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز کا اعلان عائشہ وہاب نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی، کانگریس کا حصہ بننے والی پہلی افغان امریکی خاتون میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب سینیٹ اجلاس: 2025 کے سیلاب سے معیشت کو 853 ارب روپے کا نقصان ہوا، PM آفس کا تحریری جواب ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی، دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی: محسن نقوی پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہا ہے: اسماعیل بقائی ایران 20 سال تک جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے: جنرل امیر حاتمی

فرحان سعید نے تشدد پسند کرداروں کو مسترد کرنے کی وجہ بتادی

Web Desk

30 November 2025

فرحان سعید نے حال ہی میں مہوش اعجاز کے یوٹیوب پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر، کرداروں کے انتخاب اور ڈراما انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر کھل کر گفتگو کی۔

اداکار نے بتایا کہ ماضی میں انہیں ایسے ڈراموں کی پیشکش کی جاتی تھی جن میں مرکزی ہیرو تشدد کرتا ہے یا زبردستی محبت کا اظہار کرتا ہے، تاہم وہ ایسے کردار فوراً ٹھکرا دیتے تھے۔ان کے مطابق اسی وجہ سے اب انہیں اس نوعیت کے ڈراموں کی پیشکش نہیں کی جاتی، بلکہ زیادہ تر مثبت اور اچھے ہیرو والے کردار ہی انہیں آفر کیے جاتے ہیں، جنہیں وہ ترجیح دیتے ہیں۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے کہ ڈراما تعلیم یا تربیت دینے کے لیے بنتا ہے، کیونکہ ان کے مطابق ڈرامے کا بنیادی مقصد تفریح ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناظرین کو بھی ڈرامے کو تفریح ہی سمجھ کر دیکھنا چاہیے اور اگر کسی کو کوئی ڈراما پسند نہ آئے تو وہ دوسرا ڈراما دیکھ لے، کیونکہ دیکھنے پر کوئی زور زبردستی نہیں ہوتی۔تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ ڈراموں سے لوگ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور ان کے باعث معاشرتی رویے بھی تبدیل ہوتے ہیں، اسی لیے ان کے خیال میں ڈرامے بناتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔گفتگو کے دوران انہوں نے ایک حالیہ ڈرامے کی مثال بھی دی، جس میں ہیرو ہیروئن کے سر پر اپنی گردن رکھ دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایسا دکھایا جا سکتا ہے، لیکن اس کردار کو بعد میں سزا بھی ملنی چاہیے، نہ کہ ایک پرانے ڈرامے کی طرح ہیرو کے ایک اچھے کام پر ہیروئن فوراً دل دے بیٹھے