LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا H-1B ویزا کیپ پٹیشنز پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز کا اعلان عائشہ وہاب نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی، کانگریس کا حصہ بننے والی پہلی افغان امریکی خاتون میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب سینیٹ اجلاس: 2025 کے سیلاب سے معیشت کو 853 ارب روپے کا نقصان ہوا، PM آفس کا تحریری جواب ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی، دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی: محسن نقوی پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہا ہے: اسماعیل بقائی ایران 20 سال تک جنگ لڑنے کے لئے تیار ہے: جنرل امیر حاتمی فیلڈ مارشل کی ایرانی قیادت سے تعمیری ملاقاتیں، کشیدگی میں کمی پر غور چین کا اسرائیل، فلسطین امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ سعودیہ اور فرانس کے درمیان سرمایہ کاری سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط امریکا نے شام کو دہشت گردی کی سرپرست ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا ایران کا امریکی توانائی مراکز کو نشانہ بنانے کا انتباہ برطانیہ، فرانس کا یوکرین کی فوجی مدد بڑھانے کا اعلان روس کا برطانیہ پر یوکرین جنگ میں براہِ راست شریک ہونے کا الزام امریکا جانتا اس کی دھمکیوں پر کوئی یقین نہیں کرتا: باقر قالیباف

میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب

Web Desk

25 August 2026

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے میر رضا علی خان کی مبینہ ہلاکت کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے سے متعلق درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ فیروز آباد تھانے میں درج ایف آئی آر 795/2026 کے مطابق متوفی کے والد اور بہن کی جانب سے وکیل جبران ناصر نے موقف اپنایا کہ جائے وقوعہ کو محفوظ نہ کرنے، الیکٹرانک ڈیوائسز کا جائزہ نہ لینے اور خودکشی کے بیانیے کو فروغ دینے سے تفتیش شدید متاثر ہوئی۔ بعد ازاں، قبر کشائی، اسپیشل میڈیکل بورڈ کے معائنے اور کیمیائی تجزیے نے خودکشی کے امکانی بیانیے کو واضح مسترد کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سابقہ تفتیشی ٹیم کے طرزِ عمل اور ثبوت ضائع کرنے کے الزامات پر 31 اگست کے لیے ایڈووکیٹ جنرل، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈی اے جی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی براہِ راست تشکیل، تفتیشی نگرانی اور سندھ ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کی قانونی حیثیت سے متعلق معاونت طلب کر لی ہے۔