LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سرحد پار سے آنے والی آلودہ ہوا سموگ کا سبب، یکطرفہ نہیں علاقائی اپروچ کی ضرورت ہے: مریم اورنگزیب ملک میں سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے: فی تولہ سونا 4 لاکھ 35 ہزار روپے کی سطح سے تجاوز کر گیا حکومت نے اچانک مذاکراتی میز پر دہشت گردی کا ایجنڈا رکھا، ایمرجنسی اور گورنر راج کی باتیں کی گئیں: راجہ ناصر عباس خیبرپختونخوا کو حکومت کی نااہلی کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے: بلال اظہر کیانی آئی ایم ایف کا وسیع پیمانے پر فیول سبسڈی سکیم فوری ختم کرنے کا مطالبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکمرانی، کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے: امیر مقام کراچی بندر گاہ سے یورپ کیلئے براہ راست شپنگ سروس بحال وزیرِ اعظم کی ڈیجیٹل نیشن پاکستان پروگرام پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کے پی کا بُرا حال، پی ٹی آئی عمران خان کے بیانیہ میں مصروف ہے: علی شاہ باچا لانگ مارچ کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، سہیل آفریدی سے جواب طلب منشیات و اسلحہ برآمدگی کیس، عدالت کا انمول عرف پنکی کو پیش کرنے کا حکم پاک فوج کا اہم اقدام، استور سے سکردو تک 66 کلومیٹر روڈ ٹریک مکمل چھوٹی و درمیانی صنعتوں کیلئے طویل المدتی قرض کی شرح سالانہ 2 فیصد کرنے کا مطالبہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے 160 فیصد زائد قیدی، 75 فیصد زیرِ سماعت وزیرِخارجہ سے بحرینی ہم منصب کی ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

میر رضا علی خان کیس: سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ، JIT تشکیل دینے کے حوالے سے قانونی سوالات پر جواب طلب

Web Desk

25 August 2026

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے میر رضا علی خان کی مبینہ ہلاکت کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے سے متعلق درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ فیروز آباد تھانے میں درج ایف آئی آر 795/2026 کے مطابق متوفی کے والد اور بہن کی جانب سے وکیل جبران ناصر نے موقف اپنایا کہ جائے وقوعہ کو محفوظ نہ کرنے، الیکٹرانک ڈیوائسز کا جائزہ نہ لینے اور خودکشی کے بیانیے کو فروغ دینے سے تفتیش شدید متاثر ہوئی۔ بعد ازاں، قبر کشائی، اسپیشل میڈیکل بورڈ کے معائنے اور کیمیائی تجزیے نے خودکشی کے امکانی بیانیے کو واضح مسترد کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سابقہ تفتیشی ٹیم کے طرزِ عمل اور ثبوت ضائع کرنے کے الزامات پر 31 اگست کے لیے ایڈووکیٹ جنرل، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈی اے جی کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی براہِ راست تشکیل، تفتیشی نگرانی اور سندھ ٹریبیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کی قانونی حیثیت سے متعلق معاونت طلب کر لی ہے۔