LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے رواں ماہ ترکیہ کا دورہ کریں گے سویڈن: شاہی محل کے باہر پولیس کی فائرنگ سے مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار

غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ بھی ملزم کو ضمانت کا حق نہیں دیتا: عدالت

Web Desk

25 August 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے غیرت کے نام پر 18 سالہ لڑکی نجماں مائی کے قتل کے مقدمے میں فریقین کے درمیان راضی نامے کو مسترد کرتے ہوئے دو ملزمان محمد ناصر اور پرویز کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔

عدالتِ عالیہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت غیرت کے نام پر قتل (کاروکاری) ایک ناقابلِ راضی نامہ جرم ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون یا مذہب کسی بھی شخص کو “غیرت” کے نام پر کسی انسان کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی مدعی و گواہوں کا اپنے بیانات سے منحرف ہونا یا حلف نامے جمع کرانا ملزمان کو ضمانت کا قانونی حق دے سکتا ہے۔

مقدمے کا پس منظر یہ ہے کہ 11 جون 2021 کو راجن پور کے تھانہ کوٹ مٹھن میں پولیس رپورٹ پر 18 سالہ لڑکی نجماں مائی کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزمان پر 30 بور پستول سے فائرنگ کر کے نجماں مائی کو قتل کرنے کا الزام ہے، جبکہ انہی کے قبضے سے آلۂ قتل بھی برآمد ہوا تھا۔ ملزمان نے طویل عرصے تک روپوشی اختیار کی اور 27 مارچ 2026 کو گرفتاری کے بعد جوڈیشل لاک اپ بھیجے گئے تھے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب محمد عبدالودود نے درخواستِ ضمانت کی سخت مخالفت کی، جبکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 9 (زندگی کا بنیادی حق) اور سپریم کورٹ کے نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سنگین جرائم میں نرمی نہیں برتی جا سکتی۔ ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ فیصلے کے نکات عارضی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کورٹ قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہوگی۔