LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی شام اور اردن کا عراقی سرزمین سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ چین کا صوبہ گانسو میں سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری کے تعین کیلئے تحقیقات کا اعلان یوکرین کا روس میں ڈرون حملہ، 13 سالہ لڑکی ہلاک، 2 شدید زخمی چین کے سٹیل پلانٹ میں دھماکے کی تحقیقات مکمل، 62 افراد ذمہ دار قرار، 7 گرفتار آسٹریا میں جون کے دوران ہیٹ ویوز کے باعث 395 اموات ریکارڈ پیپر لیک اور امتحانات منسوخی: راہول گاندھی کا مودی سرکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں: حنیف عباسی کی سوات میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی: شزہ فاطمہ انتخابات میں کامیابی یا شکست کو جمہوری روایت کے مطابق قبول کیا جانا چاہئے: اختیار ولی خان وزیراعلیٰ سندھ کا بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، نکاسی آب کے اقدامات تیز کرنے کا حکم

افریقا میں ایبولا کا خوفناک پھیلاؤ، کانگو میں 131 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او نے عالمی ایمرجنسی نافذ کردی

Web Desk

19 May 2026

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیدروس ایدہانوم نے وسطی افریقا بالخصوص جمہوریہ کانگو میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا کی نئی لہر پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دنیا کے لیے ایک سنگین اور غیر معمولی خطرہ قرار دیا ہے۔ جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ ایبولا کی موجودہ وبا کی رفتار، پھیلاؤ اور ہلاکت خیزی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، جس کے لیے فوری عالمی یکجہتی اور امداد کی ضرورت ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، کانگو میں ایبولا وائرس کے باعث صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے، جہاں اب تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 131 ہو چکی ہے جبکہ 513 سے زائد مشتبہ کیسز باقاعدہ رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ مہلک وائرس اب پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی سرایت کر چکا ہے، جہاں اب تک ایک ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم، کانگو کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کے حالیہ اعداد و شمار ابھی ابتدائی تخمینوں پر مبنی ہیں، اور لیبارٹریوں میں تحقیقات کا عمل جاری ہے تاکہ قطعی طور پر یہ تصدیق کی جا سکے کہ تمام اموات صرف اور صرف ایبولا وائرس کی وجہ سے ہی ہوئیں یا ان کے پیچھے کوئی اور طبی وجہ بھی شامل ہے۔

طبی دنیا کے لیے سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ اس مرتبہ ایبولا کا ایک بالکل نیا اور تبدیل شدہ ورژن (Mutation) سامنے آیا ہے، جس کے اثرات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک ہیں۔ محققین کے مطابق، اس نئے ورژن کے خلاف اس وقت دنیا میں نہ تو کوئی مؤثر ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل یا مکمل علاج دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران یہ موذی وائرس برعظم افریقا میں 15 ہزار سے زائد انسانوں کی جانیں لے چکا ہے۔

حالیہ وبا کا بنیادی مرکز کانگو کا شمال مشرقی صوبہ “ایتوری” بتایا جا رہا ہے، جو جغرافیائی طور پر جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں واقع سونے کی وسیع کانیں اور سرحدوں پر عوام کی مسلسل بے لگام نقل و حرکت اس وائرس کے ایک سے دوسرے علاقے میں منتقلی کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔

دوسری جانب، اس وبا کے بین الاقوامی اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جرمنی نے ہنگامی بنیادوں پر اعلان کیا ہے کہ کانگو میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ایبولا وائرس کا شکار ہونے والے ایک امریکی شہری کو فوری طور پر خصوصی طبی انتظام کے تحت علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔ امریکی اور جرمن حکام کے مطابق، متاثرہ شخص کو ائیر ایمبولینس کے ذریعے منتقل کر کے اعلیٰ درجے کے قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے گا تاکہ وائرس کو یورپ میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔