LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمۂ جنگ نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا یران سے مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں، معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے: ٹرمپ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر جناب محمد نواز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھارتی رجسٹرڈ طیاروں پر فضائی پابندی 24 جولائی کی صبح تک بڑھا دی۔ پی اے اے نوٹم بغیر چمچوں اور پروٹوکول کے باہر نکلیں تاکہ اندازہ ہو،خواجہ اظہار الحسن کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ

افریقا میں ایبولا کا خوفناک پھیلاؤ، کانگو میں 131 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او نے عالمی ایمرجنسی نافذ کردی

Web Desk

19 May 2026

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیدروس ایدہانوم نے وسطی افریقا بالخصوص جمہوریہ کانگو میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا کی نئی لہر پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دنیا کے لیے ایک سنگین اور غیر معمولی خطرہ قرار دیا ہے۔ جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ ایبولا کی موجودہ وبا کی رفتار، پھیلاؤ اور ہلاکت خیزی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، جس کے لیے فوری عالمی یکجہتی اور امداد کی ضرورت ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، کانگو میں ایبولا وائرس کے باعث صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے، جہاں اب تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 131 ہو چکی ہے جبکہ 513 سے زائد مشتبہ کیسز باقاعدہ رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ مہلک وائرس اب پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی سرایت کر چکا ہے، جہاں اب تک ایک ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم، کانگو کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کے حالیہ اعداد و شمار ابھی ابتدائی تخمینوں پر مبنی ہیں، اور لیبارٹریوں میں تحقیقات کا عمل جاری ہے تاکہ قطعی طور پر یہ تصدیق کی جا سکے کہ تمام اموات صرف اور صرف ایبولا وائرس کی وجہ سے ہی ہوئیں یا ان کے پیچھے کوئی اور طبی وجہ بھی شامل ہے۔

طبی دنیا کے لیے سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ اس مرتبہ ایبولا کا ایک بالکل نیا اور تبدیل شدہ ورژن (Mutation) سامنے آیا ہے، جس کے اثرات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہلک ہیں۔ محققین کے مطابق، اس نئے ورژن کے خلاف اس وقت دنیا میں نہ تو کوئی مؤثر ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل یا مکمل علاج دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران یہ موذی وائرس برعظم افریقا میں 15 ہزار سے زائد انسانوں کی جانیں لے چکا ہے۔

حالیہ وبا کا بنیادی مرکز کانگو کا شمال مشرقی صوبہ “ایتوری” بتایا جا رہا ہے، جو جغرافیائی طور پر جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں واقع سونے کی وسیع کانیں اور سرحدوں پر عوام کی مسلسل بے لگام نقل و حرکت اس وائرس کے ایک سے دوسرے علاقے میں منتقلی کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہے۔

دوسری جانب، اس وبا کے بین الاقوامی اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جرمنی نے ہنگامی بنیادوں پر اعلان کیا ہے کہ کانگو میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ایبولا وائرس کا شکار ہونے والے ایک امریکی شہری کو فوری طور پر خصوصی طبی انتظام کے تحت علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔ امریکی اور جرمن حکام کے مطابق، متاثرہ شخص کو ائیر ایمبولینس کے ذریعے منتقل کر کے اعلیٰ درجے کے قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے گا تاکہ وائرس کو یورپ میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔