LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ایران کیخلاف جنگ: امریکا اور برطانیہ کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ایران بڑے بحران میں ہے۔آبنائے ہرمز فوری کھولنے کامطالبہ کیاہے، امریکی صدرکا دعویٰ

واٹس ایپ گروپ کے ایڈمنز خبردار ہو جائیں، بھاری جرمانوں کی سخت وارننگ آگئی

Web Desk

29 April 2026

متحدہ عرب امارات میں سائبر قوانین کے حوالے سے حکام نے شہریوں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واٹس ایپ سمیت کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہونے والی پرائیویٹ چیٹس بھی قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔اماراتی حکام کے مطابق شہریوں کو چاہیے کہ وہ سائبر کرائم قوانین کی مکمل پابندی کریں کیونکہ نجی گفتگو، تصاویر یا پیغامات کو بغیر اجازت شیئر کرنا ایک قابل سزا جرم ہے۔حکام نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ کسی کی پرائیویٹ چیٹ کا اسکرین شاٹ لینا اور اسے آگے بھیجنا قانونی خلاف ورزی شمار ہو سکتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جھوٹی، گمراہ کن یا غیر تصدیق شدہ معلومات کو فارورڈ کرنا بھی سنگین جرم ہے، جس پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے جرائم پر 2 لاکھ 50 ہزار سے لے کر 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ واٹس ایپ گروپس کے ایڈمنز کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے گروپس میں شیئر ہونے والے مواد کے ذمہ دار ہوں گے۔ اگر گروپ میں کوئی غیر قانونی یا متنازع مواد شیئر کیا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری ایڈمن پر بھی عائد ہو سکتی ہے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں، غیر مصدقہ خبریں شیئر کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے بچیں تاکہ قانونی کارروائی سے محفوظ رہ سکیں۔