LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا

آسٹریلیا میں پابندی کے باوجود دو تہائی بچے سوشل میڈیا پر موجود

Web Desk

28 April 2026

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے باوجود ایک حالیہ سروے نے اس قانون کی تاثیر پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 1,050 بچوں پر مشتمل سروے کے مطابق، تقریباً 50 سے 70 فیصد بچے اب بھی انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے مقبول پلیٹ فارمز تک باآسانی رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ مولی روز فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچے عمر کی تصدیق کے نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب ہیں، جبکہ ای سیفٹی کمشنر نے بھی ٹیک کمپنیوں کو ان بڑے خلاؤں پر خبردار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی صرف ٹیک کمپنیوں کو ذمہ داری سے بچنے کا موقع دے رہی ہے، جس کے پیشِ نظر برطانیہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ آسٹریلوی طرز کی پابندی میں جلد بازی کرنے کے بجائے ایسے مضبوط قوانین بنائے جو سوشل میڈیا کے خطرناک ڈیزائن اور کاروباری ماڈلز کو براہِ راست نشانہ بنائیں۔