LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نے امریکی ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا: ایرانی میڈیا وزیراعظم شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت

ایران کیخلاف جنگ: امریکا اور برطانیہ کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار

Web Desk

29 April 2026

امریکا اور برطانیہ کے دیرینہ تعلقات ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے معاملے پر تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چرچل جیسے بہادر رہنما ثابت نہیں ہوئے کیونکہ انہوں نے ایران پر حملوں کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر برطانوی سفیر کرسچن ٹرنر کا ایک تہلکہ خیز بیان سامنے آیا۔ سفیر نے واشنگٹن میں برطانوی طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب امریکا کا واحد “خصوصی تعلق” (Special Relationship) صرف اسرائیل کے ساتھ رہ گیا ہے۔ فروری کے وسط میں ریکارڈ کیا گیا یہ بیان ایک ایسے وقت میں منظرِ عام پر آیا ہے جب دونوں اتحادیوں کے درمیان دفاعی حکمتِ عملی پر واضح اختلافات پائے جاتے ہیں۔