نظامِ شمسی میں ‘پانچویں قوت’ کی موجودگی کا انکشاف: سائنسدانوں نے ہلچل مچا دی
Web Desk
27 April 2026
سائنسدانوں نے ایک ایسا نظریہ پیش کیا ہے جو کائنات سے متعلق انسانی سمجھ بوجھ کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کائنات کو چلانے والی چار معلوم بنیادی قوتوں کے علاوہ ایک پراسرار ’پانچویں قوت‘ بھی موجود ہو سکتی ہے، جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کا اصل محرک ہو سکتی ہے۔
اب تک کی سائنسی تحقیق صرف چار قوتوں کو تسلیم کرتی ہے اجسام کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنے والی قوت۔بجلی اور مقناطیسی لہروں کا تعامل۔ایٹم کے مرکزے کو جوڑنے والی قوت۔ایٹمی تابکاری کا باعث بننے والی قوت۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کا 95 فیصد حصہ ’ڈارک میٹر‘ اور ’ڈارک انرجی‘ پر مشتمل ہے، جو اب تک کسی مشاہدے میں نہیں آ سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ پانچویں قوت ان پراسرار اجزاء اور مادی کائنات کے درمیان ایک ‘پل’ کا کردار ادا کر رہی ہے۔
ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کے مطابق، اس قوت کی تصدیق کے لیے زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کی لیزر شعاعوں سے پیمائش کی جا رہی ہے۔ اگر کششِ ثقل کے روایتی حسابات میں معمولی سا فرق بھی نکلا، تو یہ پانچویں قوت کا ثبوت ہوگا۔
تاریخی پس منظر: 2015 میں ہنگری کے سائنسدانوں نے ’ایکس بوسون‘ نامی ایک نئے ذرے کا مشاہدہ کیا تھا، جسے اس نئی قوت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔
موجودہ مشن: یورپی خلائی مشنز اربوں کہکشاؤں کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ اس پوشیدہ قوت کے اثرات کو پکڑا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026