LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا

نظامِ شمسی میں ‘پانچویں قوت’ کی موجودگی کا انکشاف: سائنسدانوں نے ہلچل مچا دی

Web Desk

27 April 2026

سائنسدانوں نے ایک ایسا نظریہ پیش کیا ہے جو کائنات سے متعلق انسانی سمجھ بوجھ کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کائنات کو چلانے والی چار معلوم بنیادی قوتوں کے علاوہ ایک پراسرار ’پانچویں قوت‘ بھی موجود ہو سکتی ہے، جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کا اصل محرک ہو سکتی ہے۔
اب تک کی سائنسی تحقیق صرف چار قوتوں کو تسلیم کرتی ہے اجسام کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنے والی قوت۔بجلی اور مقناطیسی لہروں کا تعامل۔ایٹم کے مرکزے کو جوڑنے والی قوت۔ایٹمی تابکاری کا باعث بننے والی قوت۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کا 95 فیصد حصہ ’ڈارک میٹر‘ اور ’ڈارک انرجی‘ پر مشتمل ہے، جو اب تک کسی مشاہدے میں نہیں آ سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ پانچویں قوت ان پراسرار اجزاء اور مادی کائنات کے درمیان ایک ‘پل’ کا کردار ادا کر رہی ہے۔
ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کے مطابق، اس قوت کی تصدیق کے لیے زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کی لیزر شعاعوں سے پیمائش کی جا رہی ہے۔ اگر کششِ ثقل کے روایتی حسابات میں معمولی سا فرق بھی نکلا، تو یہ پانچویں قوت کا ثبوت ہوگا۔
تاریخی پس منظر: 2015 میں ہنگری کے سائنسدانوں نے ’ایکس بوسون‘ نامی ایک نئے ذرے کا مشاہدہ کیا تھا، جسے اس نئی قوت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔
موجودہ مشن: یورپی خلائی مشنز اربوں کہکشاؤں کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ اس پوشیدہ قوت کے اثرات کو پکڑا جا سکے۔