LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور چین کے درمیان 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ملٹی نیشنل جاپانی کمپنی کا ’’میڈان پاکستان‘‘ آٹوپارٹس بنانے کا اعلان اسلام آباد، راولپنڈی سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے افغانستان کی جنوبی وزیرستان میں اشتعال انگیزی، پاک فوج کی بروقت کارروائی میں پوسٹیں تباہ پاکستان کا دورہ نہایت مفید، آج پیوٹن سے ملاقات، پیشرفت کا جائزہ لیں گے: عراقچی سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا ایرانی وزیر خارجہ، روسی صدر سے ملاقات کیلئے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ کے خاتمے کیلئے نئی تجویز امریکا کو موصول واشنگٹن فائرنگ کا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا، اٹارنی جنرل بلانش پاکستان کا ایران کو تجارتی سہولت دینے کا بڑا فیصلہ، ٹرانزٹ تجارت کی اجازت دہلی ائیرپورٹ پر سوئس ائیر کے طیارے کے انجن میں آگ، 6 مسافر زخمی پی ایس ایل 11: لاہور قلندرز باہر، حیدرآباد کنگز مین پلے آف میں پہنچ گئی عباس عراقچی کی دوبارہ اسلام آباد آمد، فیلڈ مارشل سے اہم مشاورت لندن:اسماعیلی کمیونٹی کے پیشوا پرنس رحیم آغا خان کی میراتھون میں شرکت بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ دوبارہ فعال، یونیورسٹی روڈ پر کام کا آغاز

نظامِ شمسی میں ‘پانچویں قوت’ کی موجودگی کا انکشاف: سائنسدانوں نے ہلچل مچا دی

Web Desk

27 April 2026

سائنسدانوں نے ایک ایسا نظریہ پیش کیا ہے جو کائنات سے متعلق انسانی سمجھ بوجھ کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کائنات کو چلانے والی چار معلوم بنیادی قوتوں کے علاوہ ایک پراسرار ’پانچویں قوت‘ بھی موجود ہو سکتی ہے، جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کا اصل محرک ہو سکتی ہے۔
اب تک کی سائنسی تحقیق صرف چار قوتوں کو تسلیم کرتی ہے اجسام کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنے والی قوت۔بجلی اور مقناطیسی لہروں کا تعامل۔ایٹم کے مرکزے کو جوڑنے والی قوت۔ایٹمی تابکاری کا باعث بننے والی قوت۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کا 95 فیصد حصہ ’ڈارک میٹر‘ اور ’ڈارک انرجی‘ پر مشتمل ہے، جو اب تک کسی مشاہدے میں نہیں آ سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ پانچویں قوت ان پراسرار اجزاء اور مادی کائنات کے درمیان ایک ‘پل’ کا کردار ادا کر رہی ہے۔
ماہرِ طبیعیات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کے مطابق، اس قوت کی تصدیق کے لیے زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کی لیزر شعاعوں سے پیمائش کی جا رہی ہے۔ اگر کششِ ثقل کے روایتی حسابات میں معمولی سا فرق بھی نکلا، تو یہ پانچویں قوت کا ثبوت ہوگا۔
تاریخی پس منظر: 2015 میں ہنگری کے سائنسدانوں نے ’ایکس بوسون‘ نامی ایک نئے ذرے کا مشاہدہ کیا تھا، جسے اس نئی قوت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔
موجودہ مشن: یورپی خلائی مشنز اربوں کہکشاؤں کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ اس پوشیدہ قوت کے اثرات کو پکڑا جا سکے۔