LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، ووٹنگ 7 جون کو ہوگی امن و سلامتی کو نقصان پہچانے کا الزام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار حکومت کا عوام کو جزوی ریلیف، پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل برقرار نیویارک میں سینٹر 360 کا آغاز، شہریوں کے لیے شہر کے دلکش مناظر مفت دستیاب اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے اہم ملاقات پاکستانی معیشت کے لیے بڑی کامیابی؛ مئی 2026 میں تجارتی خسارے میں 39 فیصد کی نمایاں کمی، سکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع پنجگور میں آپریشن،6 خارجی ہلاک آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنے گا، وزارت خزانہ

پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف

Web Desk

29 April 2026

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کی مکمل اور حقیقی تصویر پیش نہیں کی جا رہی۔ رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے پینٹاگون کی فراہم کردہ معلومات کی درستگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ جریدے کا دعویٰ ہے کہ جہاں ایک طرف امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، وہیں انٹیلی جنس جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کی فضائیہ کا دو تہائی حصہ اور میزائل لانچ کرنے کی بڑی صلاحیت اب بھی برقرار ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی چھوٹی تیز رفتار کشتیاں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت آبنائے ہرمز کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بعد ایران کے 50 فیصد میزائل لانچرز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع کی جانب سے صدر کو صرف وہی باتیں بتانا جو وہ سننا چاہتے ہیں، کسی بڑے سیکیورٹی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔