LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ایران کیخلاف جنگ: امریکا اور برطانیہ کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ایران بڑے بحران میں ہے۔آبنائے ہرمز فوری کھولنے کامطالبہ کیاہے، امریکی صدرکا دعویٰ متحدہ عرب امارات کی تیل پیداکرنے والی ممالک کی تنظیم اوپیک اوراوپیک پلس سے علیحدگی عوام کےلیے خوشخبری، 25کلوواٹ سے کم سولرصارفین کےلیے لائسنس کی شرط ختم امن کےفروغ کیلیے پاکستان کا کردارقابل تعریف ہے، ایرانی سفیر ایران امریکا تنازع طے کرنے کےلیے پاکستان بہترین ثالثی کررہاہے، قطر آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی فتح ٹو میزائل سسٹم کی کامیاب مشق جوڈیشل کمیشن، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس کیانی،جسٹس بابر،جسٹس ثمن کے تبادلوں کی منظوری حکومت یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی: وزیراعظم

پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف

Web Desk

29 April 2026

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کی مکمل اور حقیقی تصویر پیش نہیں کی جا رہی۔ رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے پینٹاگون کی فراہم کردہ معلومات کی درستگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ جریدے کا دعویٰ ہے کہ جہاں ایک طرف امریکی میزائلوں کے ذخائر میں کمی پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، وہیں انٹیلی جنس جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کی فضائیہ کا دو تہائی حصہ اور میزائل لانچ کرنے کی بڑی صلاحیت اب بھی برقرار ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی چھوٹی تیز رفتار کشتیاں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت آبنائے ہرمز کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بعد ایران کے 50 فیصد میزائل لانچرز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع کی جانب سے صدر کو صرف وہی باتیں بتانا جو وہ سننا چاہتے ہیں، کسی بڑے سیکیورٹی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔