LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی

ایک صدی سے زائد عرصہ تک استعمال کی جانے والی بیٹری متعارف

Web Desk

13 April 2026

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسی حیرت انگیز ایجاد سامنے آئی ہے جس نے ‘بیٹری لائف’ کے تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکی کمپنی این آر ڈی (NRD) نے ایک ایسی سولڈ اسٹیٹ ایٹمی بیٹری تیار کی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بغیر کسی دیکھ بھال یا چارجنگ کے ایک صدی (100 سال) سے زیادہ عرصے تک مسلسل بجلی فراہم کر سکتی ہے۔ یہ بیٹری خاص طور پر ان حساس الیکٹرانک آلات کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو ایسی جگہوں پر نصب ہوتے ہیں جہاں انسان کا بار بار پہنچنا یا مرمت کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

اس انقلابی بیٹری کی خاص بات اس میں استعمال ہونے والا مادہ نکل-63 (Nickel-63) ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ‘بیٹا وولٹیک’ (Betavoltaic) ڈیزائن پر مبنی ہے، جو ایٹمی مادے سے خارج ہونے والی تابکاری (Radiation) کو براہ راست برقی رو (Electricity) میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اگرچہ یہ بیٹری 5 سے 500 نینو واٹ جیسی معمولی بجلی پیدا کرتی ہے، لیکن یہ مقدار ان مخصوص سینسرز، ڈیٹا ریکارڈنگ سسٹمز اور سکیورٹی آلات کے لیے کافی ہے جنہیں مسلسل لیکن انتہائی کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمپنی کے سی ای او شیل الفیرو کے مطابق، یہ بیٹری اہم صنعتی اور ماحولیاتی مشنز کے لیے ایک ‘گیم چینجر’ ثابت ہوگی جہاں بیٹری کا فیل ہونا پورے سسٹم کی ناکامی کا باعث بنتا ہے۔

یہ بیٹری مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) پر چلنے والے مانیٹرنگ پلیٹ فارمز اور خلائی مشنز میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگرچہ اس کی 100 سالہ عمر کا دعویٰ نکل-63 کی طبعی خصوصیات پر مبنی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عام مارکیٹ میں دستیابی سے قبل اس کی کارکردگی کا آزادانہ لیبارٹریوں میں تجربہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔ اس ایجاد نے یہ امید پیدا کر دی ہے کہ مستقبل میں ہمیں اپنے چھوٹے سمارٹ آلات کی بیٹریاں بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔