LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضمنی انتخاب: پنجاب کے دونوں حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کامیاب اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد

بیکٹیریا سے بھی چھوٹا کیو آر کوڈ تیار

Web Desk

31 March 2026

ویانا: آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی کے محققین نے خوردبینی اجسام کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا کیو آر کوڈ (QR Code) تیار کیا ہے جس کا کل رقبہ محض 1.98 مربع مائیکرو میٹر ہے۔ یہ حجم ایک اوسط انسانی خلیے یا بیکٹیریا سے بھی کم ہے، جس کی وجہ سے اسے عام آنکھ یا عام روشنی والے خوردبین سے دیکھنا قطعی ناممکن ہے۔

اس کوڈ کو تیار کرنے کے لیے چارجڈ ذرات کی شعاعوں (Charged Particle Beams) کا استعمال کیا گیا، جس کی مدد سے اسے سیرامک کی ایک خاص قسم پر انتہائی باریکی سے کندہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے تیار کردہ ڈیٹا انتہائی پائیدار ہے اور اسے کئی برسوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس ننھے سے کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے پر یونیورسٹی کی ویب سائٹ کھلتی ہے، تاہم اسکیننگ کے لیے اسکیننگ الیکٹرون مائیکرو اسکوپ (SEM) کا استعمال لازمی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ محض ایک ریکارڈ نہیں بلکہ مستقبل میں انسانی جسم کے اندر ادویات کی ٹریکنگ، انتہائی حساس سیکیورٹی ٹیگز اور مائیکرو چپس پر ڈیٹا کندہ کرنے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ گینیز ورلڈ ریکارڈز نے باضابطہ طور پر اسے دنیا کا سب سے چھوٹا کیو آر کوڈ تسلیم کر لیا ہے۔