بیکٹیریا سے بھی چھوٹا کیو آر کوڈ تیار
Web Desk
31 March 2026
ویانا: آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی کے محققین نے خوردبینی اجسام کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا کیو آر کوڈ (QR Code) تیار کیا ہے جس کا کل رقبہ محض 1.98 مربع مائیکرو میٹر ہے۔ یہ حجم ایک اوسط انسانی خلیے یا بیکٹیریا سے بھی کم ہے، جس کی وجہ سے اسے عام آنکھ یا عام روشنی والے خوردبین سے دیکھنا قطعی ناممکن ہے۔
اس کوڈ کو تیار کرنے کے لیے چارجڈ ذرات کی شعاعوں (Charged Particle Beams) کا استعمال کیا گیا، جس کی مدد سے اسے سیرامک کی ایک خاص قسم پر انتہائی باریکی سے کندہ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے تیار کردہ ڈیٹا انتہائی پائیدار ہے اور اسے کئی برسوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس ننھے سے کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے پر یونیورسٹی کی ویب سائٹ کھلتی ہے، تاہم اسکیننگ کے لیے اسکیننگ الیکٹرون مائیکرو اسکوپ (SEM) کا استعمال لازمی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ محض ایک ریکارڈ نہیں بلکہ مستقبل میں انسانی جسم کے اندر ادویات کی ٹریکنگ، انتہائی حساس سیکیورٹی ٹیگز اور مائیکرو چپس پر ڈیٹا کندہ کرنے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ گینیز ورلڈ ریکارڈز نے باضابطہ طور پر اسے دنیا کا سب سے چھوٹا کیو آر کوڈ تسلیم کر لیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
مغربی تھائی لینڈ میں 2000 سال پرانی سونے کی انگوٹھیاں دریافت
7 July 2026
اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا
6 July 2026
دنیا کے سب سے چھوٹے قد کے جوڑے کا منفرد گھر مرکزِ توجہ
6 July 2026
اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا
6 July 2026
ڈزنی لینڈ: 70 سال میں ایک ارب مہمانوں کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا
6 July 2026
زرافے بھی بنیادی ریاضی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تحقین میں انکشاف
4 July 2026
کاکروچ کے لیے ڈائیونگ سُوٹ تیار
4 July 2026
چوری کی انوکھی واردات، 13 کلومیٹر طویل ہائی ٹینشن بجلی کی تاریں غائب
4 July 2026