LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکانے حملے کیے توجواب طویل اوردردناک ہوگا، پاسداران انقلاب موٹرسائیکل سواروں، پبلک وگڈزٹرانسپورٹ کےلیے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع فسادی غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانی کی تہہ کے سوا کچھ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا

ری-بین میٹا اسمارٹ گلاسز سے ریکارڈ ویڈیوز پرائیویسی بحث کا مرکز بن گئیں

Web Desk

5 March 2026

حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا کے تیار کردہ اسمارٹ چشمے ری-بین میٹا اسمارٹ گلاسز سے ریکارڈ کی جانے والی ویڈیوز بعض اوقات کمپنی کے سسٹمز کے ذریعے انسانی عملے تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جب صارفین ان چشموں کی مدد سے ویڈیوز ریکارڈ کرتے ہیں یا ان میں موجود مصنوعی ذہانت (AI) کے فیچرز استعمال کرتے ہیں تو بعض اوقات یہ مواد کمپنی کے ڈیٹا سسٹمز تک منتقل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ مواد مصنوعی ذہانت کے نظام کو بہتر بنانے یا کارکردگی کے جائزے کے لیے مخصوص ٹیموں یا بیرونی کنٹریکٹرز کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

تحقیق سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکارڈ شدہ ویڈیوز میں روزمرہ زندگی کے مناظر، گھریلو سرگرمیاں اور بعض اوقات ذاتی نوعیت کے لمحات شامل ہوتے ہیں، اور کئی مواقع پر آس پاس موجود افراد کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ انہیں اسمارٹ چشموں کے ذریعے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جب یہ ڈیٹا AI کے تربیتی نظام کا حصہ بن جاتا ہے تو بعد میں اس کے استعمال پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

دوسری جانب میٹا کا مؤقف ہے کہ صارفین کی شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے چہروں کو دھندلا کرنے اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں، تاہم تحقیق میں شامل بعض کارکنوں کے مطابق یہ اقدامات ہر صورت حال میں مکمل مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

یہ اسمارٹ چشمے عالمی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، اور ان میں نصب کیمرہ اور AI پر مبنی معاون نظام صارفین کو اپنی نظر کے زاویے سے تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس نے جدید ٹیکنالوجی اور پرائیویسی کے درمیان توازن پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔