LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

امریکا: غیرمعمولی جِلد کی بیماری کے پھیلاؤ پر ماہرین پریشان

Web Desk

12 July 2026

امریکا کے مختلف مضافاتی علاقوں میں گلہریوں میں ایک غیر معمولی جلدی بیماری کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث ان کے جسم پر خوفناک رسولیاں بن رہی ہیں اور جنگلی حیات کے ماہرین نے انہیں غیر رسمی طور پر ’زومبی گلہریوں‘ کا نام دے دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیفیت “اسکوئرل فائبرومیٹوسس” (Squirrel Fibromatosis) نامی وائرل بیماری کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے، جو لیپوری پاکس وائرس کے باعث پھیلتی ہے۔ یہ وائرس متاثرہ گلہری کے زخموں یا لعاب کے براہِ راست رابطے سے دوسری گلہریوں میں منتقل ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم پر مسوں جیسے ابھار بن جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئی گلہریاں بغیر علاج کے بھی صحت یاب ہو جاتی ہیں، تاہم شدید صورتوں میں یہ رسولیاں جسم کے اندرونی اعضا تک پھیل کر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ وائلڈ لائف حکام نے واضح کیا ہے کہ اسے برطانیہ میں پائی جانے والی “اسکوئرل پاکس” بیماری سے تشبیہ نہیں دینی چاہیے جو سرخ گلہریوں کے لیے خطرناک ہے۔ یہ صورتحال جنگلی حیات کے اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسی گلہریوں کو ہاتھ لگانے یا خوراک دینے سے سخت گریز کریں۔