LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

امریکا: غیرمعمولی جِلد کی بیماری کے پھیلاؤ پر ماہرین پریشان

Web Desk

12 July 2026

امریکا کے مختلف مضافاتی علاقوں میں گلہریوں میں ایک غیر معمولی جلدی بیماری کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث ان کے جسم پر خوفناک رسولیاں بن رہی ہیں اور جنگلی حیات کے ماہرین نے انہیں غیر رسمی طور پر ’زومبی گلہریوں‘ کا نام دے دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیفیت “اسکوئرل فائبرومیٹوسس” (Squirrel Fibromatosis) نامی وائرل بیماری کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے، جو لیپوری پاکس وائرس کے باعث پھیلتی ہے۔ یہ وائرس متاثرہ گلہری کے زخموں یا لعاب کے براہِ راست رابطے سے دوسری گلہریوں میں منتقل ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم پر مسوں جیسے ابھار بن جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئی گلہریاں بغیر علاج کے بھی صحت یاب ہو جاتی ہیں، تاہم شدید صورتوں میں یہ رسولیاں جسم کے اندرونی اعضا تک پھیل کر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ وائلڈ لائف حکام نے واضح کیا ہے کہ اسے برطانیہ میں پائی جانے والی “اسکوئرل پاکس” بیماری سے تشبیہ نہیں دینی چاہیے جو سرخ گلہریوں کے لیے خطرناک ہے۔ یہ صورتحال جنگلی حیات کے اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسی گلہریوں کو ہاتھ لگانے یا خوراک دینے سے سخت گریز کریں۔