LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

کراچی میں مزید دو بچیوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو گئی

Web Desk

11 July 2026

کراچی کے ولیکا ہسپتال سے سامنے آنے والے ایچ آئی وی (HIV) کیسز کا تشویشناک سلسلہ تھم نہ سکا، جہاں ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث مزید دو معصوم بچیوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ضیا کالونی کی 9 سالہ اور میٹروول کی 3 سالہ بچی شامل ہے۔ متاثرہ بچی کے والد نے ہسپتال پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی سینے کے انفیکشن (Chest Infection) کے علاج کے لیے ولیکا ہسپتال میں زیرِ علاج رہی تھی، تاہم ڈسچارج ہونے کے بعد بھی طبیعت مسلسل خراب رہنے پر جب نجی لیب سے خون کے ٹیسٹ کروائے گئے تو رپورٹ میں ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا انکشاف ہوا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے سامنے آنے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے ہسپتال میں استعمال ہونے والی سرنجز، بلڈ ٹرانسفیوژن کے طریقہ کار اور دیگر طبی آلات کی مزید تحقیقات اور متاثرہ بچوں کے طبی معائنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔