LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک، 2050 تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

Web Desk

12 July 2026

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سالانہ 2.5 فیصد کی موجودہ شرحِ نمو برقرار رہی تو 2050 تک ملک کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے آبادی میں اضافے کی شرح کو 1.2 فیصد اور شرحِ پیدائش کو 2 سے کم پر لانے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جس کے تدارک کے لیے مانع حمل ادویات پر عائد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے موجودہ فارمولے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر فنڈز کی تقسیم 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر ہوگی تو کوئی بھی صوبہ اپنی آبادی کم کر کے اپنے پیسے کم نہیں کرنا چاہے گا۔ رپورٹ کے مطابق، اس وقت ملک کی نصف آبادی طبی سہولتوں سے محروم ہے اور ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار رہی تو 2050 تک ملک کو مزید 66 ہزار نئے اسکول، 6 لاکھ 79 ہزار اساتذہ اور ساڑھے 6 کروڑ نئی ملازمتوں کی ضرورت ہوگی۔