LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی پاسداران کے سینئر عہدیدار کی عرب ممالک کو امریکی فوجی انخلاء کی دھمکی اسحاق ڈار کی کرغزستان کے ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی شدید جوابی کارروائی کی دھمکی ایران کوئی بے معنی معاہدہ کر بھی لے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں: ٹرمپ پنجاب بھر میں نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید ایک فیصد اضافہ ریکارڈ وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘: دو ماہ میں منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ میں 117 فیصد کا ریکارڈ اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ، ایس ای سی پی کی تحقیقات میں تیزی امیر جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار

ٹرمپ کا کینیڈا سے سرحدی پل پر مشترکہ ملکیت کا مطالبہ، افتتاح روکنے کی دھمکی

Web Desk

11 February 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے مطالبہ کیا ہے کہ گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج پر امریکا کو کم از کم نصف ملکیت اور مشترکہ اختیار دیا جائے، بصورت دیگر پل کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد وائٹ ہاؤس نے مؤقف اختیار کیا کہ پل کے دونوں اطراف زمین کی کینیڈین ملکیت “ناقابل قبول” ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکا پل پر گزرنے والی سرگرمیوں پر مشترکہ اختیار رکھے اور اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد میں حصہ دار ہو۔

گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج دریائے ڈیٹرائٹ پر تعمیر کیا گیا ہے اور یہ امریکا کی ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ کو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر ونڈسر سے ملائے گا۔ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 6.4 ارب کینیڈین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ تعمیر کا آغاز 2018 میں ہوا تھا اور جلد ٹریفک کے لیے کھولے جانے کی توقع ہے، تاہم حتمی ٹیسٹ اور منظوری کا عمل باقی ہے۔

یہ پل مکمل طور پر کینیڈین حکومت کی مالی معاونت سے تعمیر کیا گیا ہے، جبکہ اس کی ملکیت عوامی سطح پر کینیڈا اور مشی گن کے درمیان ہوگی۔ اس منصوبے کو وِنڈسر-ڈیٹرائٹ برج اتھارٹی تیار کر رہی ہے جو کینیڈا کی وفاقی کراؤن کارپوریشن ہے۔

وزیراعظم مارک کارنی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ گفتگو کو “مثبت” قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پل کی تعمیر کینیڈا نے مالی طور پر ممکن بنائی اور اس میں دونوں ممالک کے مزدوروں اور اسٹیل کا استعمال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ دوطرفہ تعاون کی بہترین مثال ہے۔

ادھر اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے امید ظاہر کی کہ پل منصوبہ بندی کے مطابق کھل جائے گا کیونکہ یہ دونوں ممالک کی معیشت کے مفاد میں ہے۔

مشی گن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر ایلیسا سلاٹکن نے خبردار کیا کہ اس اہم انفراسٹرکچر منصوبے کو روکنا ریاست کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا، جس سے کاروباری لاگت بڑھے گی، سپلائی چین متاثر ہوگی اور روزگار کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔

سابق ریپبلکن گورنر رک سنائیڈر نے بھی اس معاہدے کو امریکا کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پل کی بندش کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکیوں کو ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ وہ امریکا کو “مکمل معاوضہ” ملنے تک پل نہیں کھلنے دیں گے۔ انہوں نے سابق صدر باراک اوباما پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ تعمیر میں امریکی اسٹیل استعمال نہیں کیا گیا، تاہم ونڈسر کے میئر ڈریو ڈلکنز نے اس الزام کو غلط قرار دیا۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی اختلافات بھی موجود ہیں، جن میں ڈیری مصنوعات پر ٹیرف اور چین کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے جیسے امور شامل ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پل کا افتتاح دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمدورفت کے لیے نہایت اہم ہے اور اس پر جاری تنازع دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔