LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز پر امریکی جواب زیر غور، حتمی مؤقف سفارتی چینلز سے دیا جائے گا: کاظم غریب آبادی یمن میں حوثیوں کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان پاکستان اور افغان وفود ماسکو فارمیٹ اجلاس میں ایک میز پر بیٹھیں گے بانی کے علاج اور کے پی سیکیورٹی پالیسی پر ڈیڈلاک، آئین کی بحالی تک تحریک جاری رہے گی: عامر ڈوگر بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہ ملنا مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا، صرف طاقت سے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی: پی ٹی آئی صومالیہ بحری قزاقوں کے حملے میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں اور زخمی کراچی منتقل، تھرڈ انجینئر کی نمازِ جنازہ ادا محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات ختم، جلد اعلامیہ جاری کرنے کا عندیہ ایران نے امریکی تجاویز کا جواب دے دیا، پابندیاں ختم کرنا ہوں گی: اسماعیل بقائی دفاعی معاہدے میں ایران، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو شامل کیا جائے: حافظ نعیم الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے: اسد قیصر پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے: عطا تارڑ ایران کا میزائلوں کی رینج اور رفتار بڑھانے کا فیصلہ، اپ گریڈیشن شروع اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے کس کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھول دیں گے: عباس عراقچی ماسکو فارمیٹ کا افغانستان سے متعلق آٹھواں مشاورتی اجلاس 5 اکتوبر کو ہو گا

فلو کتنا جان لیوا اور کن افراد کیلئے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے؟

Web Desk

28 August 2026

اسلام آباد: طبی ماہرین اور عالمی صحتی اداروں کے مطابق انفلوئنزا (فلو) محض ایک معمولی وائرل انفیکشن نہیں بلکہ سنگین پیچیدگیوں کی صورت میں ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد لقمیہ اجل بن جاتے ہیں۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال موسمی فلو کے باعث سانس کی بیماریوں سے 2 لاکھ 90 ہزار سے 6 لاکھ 50 ہزار تک اموات ہوتی ہیں۔ فلو براہِ راست اور بالخصوص ثانوی پیچیدگیوں جیسے کہ نمونیا، پھیپھڑوں میں شدید سوزش، اور سیپسس (Sepsis) کے باعث موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ بیماری دل، دماغ اور پٹھوں کے ٹشوز کو متاثر کرنے کے علاوہ پہلے سے موجود دائمی امراض جیسے دمہ اور امراضِ قلب کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔ بزرگ، چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد اس کے سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔

فلو کی ہنگامی اور خطرناک علامات

طبی ماہرین کے مطابق درج ذیل شدید علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ہسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے:

  • بالغ افراد میں: سانس لینے میں شدید دشواری، سینے یا پیٹ میں درد و دباؤ، شدید چکر آنا، ذہنی الجھن، دورے پڑنا، پیشاب کی شدید کمی، اور پٹھوں کی کمزوری۔

  • بچوں میں: 104 ڈگری فارن ہائیٹ (40°C) سے زیادہ بخار، چہرے یا ہونٹوں کا نیلا پڑنا، ہوش مندی میں کمی، پانی کی کمی (روتے ہوئے آنسو نہ آنا)، اور 8 گھنٹے تک پیشاب نہ آنا۔

بچاؤ اور حفاظتی تدابیر

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق فلو سے بچاؤ کا سب سے موثر اور بہترین طریقہ سالانہ فلو ویکسینیشن ہے۔ 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں، 65 سال سے زائد العمر افراد، حاملہ خواتین، اور دائمی مریضوں کے لیے ویکسین لگوانا انتہائی ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، باقاعدگی سے صابن سے ہاتھ دھونا، چھینکتے یا کھانستے وقت ناک اور منہ کو ڈھانپنا، اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں خود کو گھر تک محدود رکھنا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔