فلو کتنا جان لیوا اور کن افراد کیلئے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے؟
Web Desk
28 August 2026
اسلام آباد: طبی ماہرین اور عالمی صحتی اداروں کے مطابق انفلوئنزا (فلو) محض ایک معمولی وائرل انفیکشن نہیں بلکہ سنگین پیچیدگیوں کی صورت میں ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد لقمیہ اجل بن جاتے ہیں۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال موسمی فلو کے باعث سانس کی بیماریوں سے 2 لاکھ 90 ہزار سے 6 لاکھ 50 ہزار تک اموات ہوتی ہیں۔ فلو براہِ راست اور بالخصوص ثانوی پیچیدگیوں جیسے کہ نمونیا، پھیپھڑوں میں شدید سوزش، اور سیپسس (Sepsis) کے باعث موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ بیماری دل، دماغ اور پٹھوں کے ٹشوز کو متاثر کرنے کے علاوہ پہلے سے موجود دائمی امراض جیسے دمہ اور امراضِ قلب کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔ بزرگ، چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد اس کے سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔
فلو کی ہنگامی اور خطرناک علامات
طبی ماہرین کے مطابق درج ذیل شدید علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ہسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے:
-
بالغ افراد میں: سانس لینے میں شدید دشواری، سینے یا پیٹ میں درد و دباؤ، شدید چکر آنا، ذہنی الجھن، دورے پڑنا، پیشاب کی شدید کمی، اور پٹھوں کی کمزوری۔
-
بچوں میں: 104 ڈگری فارن ہائیٹ (40°C) سے زیادہ بخار، چہرے یا ہونٹوں کا نیلا پڑنا، ہوش مندی میں کمی، پانی کی کمی (روتے ہوئے آنسو نہ آنا)، اور 8 گھنٹے تک پیشاب نہ آنا۔
بچاؤ اور حفاظتی تدابیر
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق فلو سے بچاؤ کا سب سے موثر اور بہترین طریقہ سالانہ فلو ویکسینیشن ہے۔ 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں، 65 سال سے زائد العمر افراد، حاملہ خواتین، اور دائمی مریضوں کے لیے ویکسین لگوانا انتہائی ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، باقاعدگی سے صابن سے ہاتھ دھونا، چھینکتے یا کھانستے وقت ناک اور منہ کو ڈھانپنا، اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں خود کو گھر تک محدود رکھنا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایڑی کا درد نظر انداز نہ کریں، کن علامات پر ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے؟
4 October 2026
وزن میں کمی کے دوران جسم کی زائد چربی کہاں جاتی ہے، حیران کُن جواب
4 October 2026
دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت
3 October 2026
پاکستان میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت : ڈاکٹر مختار برتھ
2 October 2026
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026