LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

فلو کتنا جان لیوا اور کن افراد کیلئے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے؟

Web Desk

28 August 2026

اسلام آباد: طبی ماہرین اور عالمی صحتی اداروں کے مطابق انفلوئنزا (فلو) محض ایک معمولی وائرل انفیکشن نہیں بلکہ سنگین پیچیدگیوں کی صورت میں ایک جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد لقمیہ اجل بن جاتے ہیں۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال موسمی فلو کے باعث سانس کی بیماریوں سے 2 لاکھ 90 ہزار سے 6 لاکھ 50 ہزار تک اموات ہوتی ہیں۔ فلو براہِ راست اور بالخصوص ثانوی پیچیدگیوں جیسے کہ نمونیا، پھیپھڑوں میں شدید سوزش، اور سیپسس (Sepsis) کے باعث موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ بیماری دل، دماغ اور پٹھوں کے ٹشوز کو متاثر کرنے کے علاوہ پہلے سے موجود دائمی امراض جیسے دمہ اور امراضِ قلب کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔ بزرگ، چھوٹے بچے، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد اس کے سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔

فلو کی ہنگامی اور خطرناک علامات

طبی ماہرین کے مطابق درج ذیل شدید علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ہسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے:

  • بالغ افراد میں: سانس لینے میں شدید دشواری، سینے یا پیٹ میں درد و دباؤ، شدید چکر آنا، ذہنی الجھن، دورے پڑنا، پیشاب کی شدید کمی، اور پٹھوں کی کمزوری۔

  • بچوں میں: 104 ڈگری فارن ہائیٹ (40°C) سے زیادہ بخار، چہرے یا ہونٹوں کا نیلا پڑنا، ہوش مندی میں کمی، پانی کی کمی (روتے ہوئے آنسو نہ آنا)، اور 8 گھنٹے تک پیشاب نہ آنا۔

بچاؤ اور حفاظتی تدابیر

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق فلو سے بچاؤ کا سب سے موثر اور بہترین طریقہ سالانہ فلو ویکسینیشن ہے۔ 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں، 65 سال سے زائد العمر افراد، حاملہ خواتین، اور دائمی مریضوں کے لیے ویکسین لگوانا انتہائی ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، باقاعدگی سے صابن سے ہاتھ دھونا، چھینکتے یا کھانستے وقت ناک اور منہ کو ڈھانپنا، اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں خود کو گھر تک محدود رکھنا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔