LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آج پاکستان پہنچیں گے، اہم ملاقاتیں شیڈول امن جرگہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کیا جائے، سپیکر کے پی اسمبلی کا وزیراعظم کو خط بانی پی ٹی آئی کے علاج پر لچک نہ دکھانا سمجھ سے بالاتر ہے: سلمان اکرم راجہ مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب کو متفقہ فوجی دستے اور صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ گیسولین قیمتوں میں اضافے کی وجہ آبنائے ہرمز نہیں، روس یوکرین جنگ ہے: ٹرمپ آئی سی سی نے 4 سینئر طالبان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری ‘پبلک’ کر دیئے ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس، افغانستان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر غور دشمن کی نئی غلطی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ایرانی آرمی چیف سعودی عرب اور یمن کو باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں: روبیو امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت

بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہ ملنا مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا، صرف طاقت سے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی: پی ٹی آئی

Web Desk

4 October 2026

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے حکومتی وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی ترجمان کے مطابق مذاکراتی عمل میں بنیادی رکاوٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان تک فوری رسائی کا مطالبہ بنا؛ اپوزیشن نے اپنے دیگر تمام مطالبات مؤخر کرنے کی پیشکش کی مگر بانی پی ٹی آئی تک رسائی کو لازمی شرط قرار دیا، جسے حکومت نے معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔ پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی اور قومی سلامتی کے اہم امور پر پارٹی سربراہ سے مشاورت جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ بانی کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی اور ذاتی معالج پر مشتمل میڈیکل بورڈ کے قیام کا مطالبہ بھی پورا نہیں کیا گیا، جبکہ حکومت کی جانب سے منگل سے صرف خاندانی اور قانونی ملاقاتوں کی بحالی پر اتفاق ہوا جسے پی ٹی آئی نے طبی معائنے کا متبادل ماننے سے انکار کر دیا۔

خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے حوالے سے پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت ضم شدہ اضلاع میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی آپریشنز اور وفاقی اقدامات کی غیر مشروط حمایت مانگ رہی تھی۔ تحریکِ انصاف نے افواجِ پاکستان اور پولیس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ صرف یکطرفہ طاقت کے استعمال سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ 72 گھنٹوں کے اندر وفاق اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس بلا کر قبائلی عمائدین، سیاسی جماعتوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے متفقہ حکمت عملی بنائی جائے۔ پی ٹی آئی نے ناکامی کا ملبہ صرف اپوزیشن پر ڈالنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات طے شدہ شرائط کی بجائے باہمی لچک اور اعتماد سے آگے بڑھتے ہیں۔