LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سوات: کبل تھانے کے قریب خودکش دھماکہ، 5 اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق، 23 زخمی پشاور میں مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے ہماری کسی ایک شکایت کا بھی جواب نہیں دیا: راجہ پرویز اشرف ہم آزادکشمیر میں جیت رہے تو کہا جا رہا دھاندلی ہوگئی: مریم اورنگزیب آزاد کشمیر انتخابات: نیئر بخاری کے ن لیگ پر دھاندلی کے الزامات، نتائج مسترد ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق خبروں کی تردید کر دی تھرپارکر اور عمرکوٹ میں بارشوں سے مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق، 2 زخمی امریکا سے حملے روکنے کی درخواست نہیں کی، ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا خاران میں سوشل میڈیا پروپیگنڈا کی مبینہ کوشش ناکام، سکیورٹی فورسز کے ردِعمل پر دہشتگرد فرار یوکرین کا روس پر بڑا حملہ، اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال گروپس کے کارکنوں کے درمیان تصادم، فائرنگ اور بھگدڑ، متعدد کارکنان زخمی مزید جنگی جہاز نہ بھیجا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے: امریکی جنرل آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، بائیکاٹ کی تجاویز مسترد کر کے میدان میں رہیں گے: ندیم افضل چن ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمرانٹرن شپ 2026 میں طلبہ و طالبات کیساتھ خصوصی نشست نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے CNN کے تازہ ترین پول میں ڈیموکریٹس کی تمام اعلیٰ قیادت کو پیچھے چھوڑ دیا

انڈسٹری کو ایسے بیانیے پر کام کرنا چاہیے جو معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں، ثانیہ ثعید

Web Desk

13 June 2026

کراچی: پاکستان کی مایہ ناز اور ورسٹائل تھیٹر، ٹیلی ویژن و فلموں کی سینئر اداکارہ ثانیہ سعید نے کہا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کو صرف تجارتی (کمرشل) کامیابی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اب ایسے بیانیے اور موضوعات پر کام کرنا چاہیے جو ہمارے معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں کھل کر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انڈسٹری کے بدلتے معیار، آزاد فلم سازی کی مشکلات اور اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کیے۔

ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ آج کل ڈراموں اور فلموں کی کاسٹنگ میں اداکاروں کی صلاحیت کے بجائے ان کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد کو اہمیت دی جا رہی ہے، جو کہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبولیت اور فن دو الگ چیزیں ہیں۔ کیمرہ ایک بہت ہی سچا اور سخت ذریعہ ہے، وہ جھوٹ کو فوراً پکڑ لیتا ہے، اس لیے لاکھوں فالوورز کبھی بھی ایک اچھے اور منجھے ہوئے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

 ثانیہ سعید نے سوال اٹھایا کہ: “ہم فلمیں بنانا تو شروع ہو گئے ہیں، لیکن انہیں لگائیں گے کہاں؟ ملک میں عام آدمی کی پہنچ میں سنیما گھر تو موجود ہی نہیں ہیں”۔ ان کے مطابق آزاد اور غیر روایتی فلمیں آج بھی ڈسٹری بیوشن اور اسکرینز تک رسائی کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بہت سی اہم فلمیں فلم سازوں کے ذاتی جذبے اور قربانی سے بنتی ہیں کیونکہ ڈسٹری بیوٹرز اور سنیما مالکان ان میں مالی سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ذاتی پیشہ ورانہ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ: “میں خود ایک پروجیکٹ کی پروڈکشن کی وجہ سے مقروض ہو گئی ہوں۔ جب یہ قرضہ اترے گا تو ہی پروڈکشن کا کام دوبارہ سے شروع کروں گی”۔

انڈسٹری میں سینئر اداکاروں کو نظرانداز کیے جانے کے تاثر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک نیا متبادل مؤقف پیش کیا: “ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ انڈسٹری میں عمر کے حوالے سے امتیاز کا اصل مسئلہ سینئر اداکاروں کی ذات کا نہیں، بلکہ کہانیوں کے محدود ہونے کا ہے۔ جب ایک انڈسٹری مکمل طور پر کمرشل ہو جاتی ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب ہمارے رائٹرز اور پروڈیوسرز ہر عمر کے کرداروں کی کہانیاں اسکرین پر دکھا ہی نہیں رہے”۔