LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق بائیں بازو کے رہنما لوئس سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب فرانس میں احتجاج کرنے والی تنظیموں نے 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا لانا نصیبہ یو این سیکرٹری جنرل بننے کی کوشش میں گریٹر اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف اسرائیلی الیکشن: مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام زمینی گزر گاہیں بند، نقل و حرکت پر پابندی ایران اور اتحادی اسرائیلی انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے حملے کر سکتے ہیں، نیتن یاہو

انڈسٹری کو ایسے بیانیے پر کام کرنا چاہیے جو معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں، ثانیہ ثعید

Web Desk

13 June 2026

کراچی: پاکستان کی مایہ ناز اور ورسٹائل تھیٹر، ٹیلی ویژن و فلموں کی سینئر اداکارہ ثانیہ سعید نے کہا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کو صرف تجارتی (کمرشل) کامیابی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اب ایسے بیانیے اور موضوعات پر کام کرنا چاہیے جو ہمارے معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں کھل کر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انڈسٹری کے بدلتے معیار، آزاد فلم سازی کی مشکلات اور اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کیے۔

ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ آج کل ڈراموں اور فلموں کی کاسٹنگ میں اداکاروں کی صلاحیت کے بجائے ان کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد کو اہمیت دی جا رہی ہے، جو کہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبولیت اور فن دو الگ چیزیں ہیں۔ کیمرہ ایک بہت ہی سچا اور سخت ذریعہ ہے، وہ جھوٹ کو فوراً پکڑ لیتا ہے، اس لیے لاکھوں فالوورز کبھی بھی ایک اچھے اور منجھے ہوئے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

 ثانیہ سعید نے سوال اٹھایا کہ: “ہم فلمیں بنانا تو شروع ہو گئے ہیں، لیکن انہیں لگائیں گے کہاں؟ ملک میں عام آدمی کی پہنچ میں سنیما گھر تو موجود ہی نہیں ہیں”۔ ان کے مطابق آزاد اور غیر روایتی فلمیں آج بھی ڈسٹری بیوشن اور اسکرینز تک رسائی کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بہت سی اہم فلمیں فلم سازوں کے ذاتی جذبے اور قربانی سے بنتی ہیں کیونکہ ڈسٹری بیوٹرز اور سنیما مالکان ان میں مالی سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ذاتی پیشہ ورانہ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ: “میں خود ایک پروجیکٹ کی پروڈکشن کی وجہ سے مقروض ہو گئی ہوں۔ جب یہ قرضہ اترے گا تو ہی پروڈکشن کا کام دوبارہ سے شروع کروں گی”۔

انڈسٹری میں سینئر اداکاروں کو نظرانداز کیے جانے کے تاثر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک نیا متبادل مؤقف پیش کیا: “ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ انڈسٹری میں عمر کے حوالے سے امتیاز کا اصل مسئلہ سینئر اداکاروں کی ذات کا نہیں، بلکہ کہانیوں کے محدود ہونے کا ہے۔ جب ایک انڈسٹری مکمل طور پر کمرشل ہو جاتی ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب ہمارے رائٹرز اور پروڈیوسرز ہر عمر کے کرداروں کی کہانیاں اسکرین پر دکھا ہی نہیں رہے”۔