LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمان سے جاری مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے: ایران کی تصدیق ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر تیار ہوگیا: اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ایران سے مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے، امریکی صدر یادداشت پر دستخط شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے، ایرانی صدر برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین کی ایران کو جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی قومی سلامتی کے دفاع کیلئے مکمل تیاری موجود ہے، ماجد ابن رضا سعودی، ایرانی، اردنی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، قیامِ امن کے عزم کا اعادہ عمان سے مذاکرات: ایران نے موجودہ جنوبی بحری راستہ ناقابل قبول قرار دیدیا یونان میں جنگلاتی آگ بجھاتے 2 ہیلی کاپٹر ٹکرا گئے، عملے کے 2 افراد ہلاک راولپنڈی سے اڑھائی سالہ بچہ اغوا کر لیا گیا ملک کے سیاسی و معاشی بحرانوں کا حل صرف شفاف انتخابات ہیں: اسد قیصر آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: ن لیگ 10 اور پی پی 2 نشست پر کامیاب سوات میں دہشتگردی ناقابل برداشت، حکومت شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے: حافظ نعیم الرحمان پیپلزپارٹی جمہوری رویہ اپنائے، دھاندلی کا شور بے بنیاد ہے: احسن اقبال سینٹکام کا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی میں 35 جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ

امریکا سے حملے روکنے کی درخواست نہیں کی، ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

Web Desk

2 August 2026

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو حتمی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران نے واشنگٹن سے نئی فوجی کارروائیاں نہ کرنے کی التجا کی ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ملک کے اعلیٰ فوجی حکام نے ٹرمپ کے اس بیان کو سرے سے بے بنیاد اور ایک “نیا من گھڑت جھوٹ” قرار دیا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ تہران کی جانب سے امریکا کے سامنے ایسی کوئی درخواست یا التجا پیش نہیں کی گئی، اور امریکی انتظامیہ کا یہ بیانیہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر مبنی ہے۔

ایرانی دفاعی حکام نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر ہائی الرٹ اور چوکس ہیں۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی حماقت یا جارحیت کی گئی تو اس کا فوری اور انتہائی دندان شکن جواب دیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری اس لفظی جنگ اور متضاد بیانات سے خطے میں مزید کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں فریقین پر سفارتی راستے اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔