LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

رابن ہُڈ کے پناہ گزین درخت کی عمر پوری ہوگئی

Web Desk

24 June 2026

رابن ہُڈ کی صدیوں پرانی مشہور داستان سے منسلک ایک عظیم و قدیم بلوط (اوک) کا درخت شاید لوگوں کی حد سے زیادہ محبت اور مسلسل آمد و رفت کا شکار ہو کر بالآخر سوکھ گیا ہے۔ ‘رائل سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف برڈز’ (RSPB) نے میجر اوک (Major Oak) نامی اس تقریباً 1200 سال پرانے تاریخی درخت کو باقاعدہ طور پر مردہ قرار دے دیا ہے، کیونکہ اس موسمِ بہار میں درخت نے روایتی طور پر کوئی نئی پتیاں نہیں نکالیں۔

تحفظِ ماحول کی عالمی تنظیم کے مطابق، گزشتہ دو صدیوں کے دوران اس تاریخی درخت کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے آنے والے بے شمار سیاحوں کے پیروں تلے اس کے اردگرد کی مٹی اس حد تک دب گئی کہ بارش کا پانی اور ضروری غذائیت اس کی جڑوں تک مؤثر انداز میں پہنچنا بند ہو گئی۔ پانی کی شدید قلت اور مٹی کے سخت ہو جانے کے باعث یہ عظیم درخت آہستہ آہستہ اندرونی طور پر کمزور ہوتا چلا گیا۔

اگرچہ یہ قدیم جنگل کئی برسوں سے ماحولیاتی تبدیلیاں اور مختلف خطرات کا سامنا کر رہا ہے، اور ماضی میں بھی کئی بار یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ یہ تاریخی درخت مر چکا ہے، تاہم ہر بار سائنسی تحقیق اور ماہرین کے معائنے کے بعد یہ ثابت ہوتا رہا کہ درخت اب بھی حیات ہے۔ مگر اس بار صورتحال بالکل مختلف اور افسوسناک ہے۔ ادارے کی نمائندہ ہولی ڈریک نے اپنے ایک بیان میں اس دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال درخت کا ایک بھی پتی نہ نکالنا ہم سب کے لیے اور تاریخ سے محبت کرنے والوں کے لیے دل توڑ دینے والی خبر ہے۔

 برطانوی لوک داستانوں کے مطابق یہی عظیم الشان درخت رابن ہُڈ اور اس کے ساتھیوں کی سب سے محفوظ ترین پناہ گاہ تھا۔ روایات کے مطابق رابن ہُڈ تیرہویں صدی کا ایک ایسا دلیر باغی تھا جو ظالم امیروں اور جاگیرداروں سے مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا۔جب بھی ناٹنگھم کا شیرف (پولیس افسر) اپنی بھاری نفری کے ساتھ اس کے تعاقب میں نکلتا، تو رابن ہُڈ شیرووڈ کے اسی گھنے جنگل میں آ کر روپوش ہو جاتا تھا اور اس میجر اوک کے وسیع پھیلاؤ کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔

ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ میجر اوک کا یوں سوکھ جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انسانوں کی بے جا مداخلت اور اوور ٹورازم (سیاحوں کا ضرورت سے زیادہ دباؤ) کس طرح زمین کے قدیم ترین جانداروں کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کر سکتے ہیں۔