LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جعلی اے آئی سرمایہ کاری سکیم، عارف حبیب گروپ کا سٹاک ایکسچینج کو انتباہی خط پاسداران انقلاب کا امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنیوالے جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ دہشت گردوں سے بات چیت کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کر دیئے جائیں گے: پاک فوج وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 21 نشستوں پر الیکشن 02 اگست کو: 12 لاکھ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا کو نشان امتیاز (ملٹری) عطا کرنے کی منظوری وزیراعظم سے آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات، خضر فرہادوف کی خدمات کو سراہا قطری ایل این جی جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر لی، آج پاکستانی حدود میں داخل ہوگا محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، پی ایس ایل سیزن کی تیاریوں پر گفتگو دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کیلئے قاہرہ میں جلد اہم اجلاس متوقع پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ایک لاکھ 76 ہزار پوائنٹس کی حد بحال قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے ایران کی قشم جزیرے پر امریکی حملے کی شدید مذمت کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 32 کان کن جاں بحق

رابن ہُڈ کے پناہ گزین درخت کی عمر پوری ہوگئی

Web Desk

24 June 2026

رابن ہُڈ کی صدیوں پرانی مشہور داستان سے منسلک ایک عظیم و قدیم بلوط (اوک) کا درخت شاید لوگوں کی حد سے زیادہ محبت اور مسلسل آمد و رفت کا شکار ہو کر بالآخر سوکھ گیا ہے۔ ‘رائل سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف برڈز’ (RSPB) نے میجر اوک (Major Oak) نامی اس تقریباً 1200 سال پرانے تاریخی درخت کو باقاعدہ طور پر مردہ قرار دے دیا ہے، کیونکہ اس موسمِ بہار میں درخت نے روایتی طور پر کوئی نئی پتیاں نہیں نکالیں۔

تحفظِ ماحول کی عالمی تنظیم کے مطابق، گزشتہ دو صدیوں کے دوران اس تاریخی درخت کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے آنے والے بے شمار سیاحوں کے پیروں تلے اس کے اردگرد کی مٹی اس حد تک دب گئی کہ بارش کا پانی اور ضروری غذائیت اس کی جڑوں تک مؤثر انداز میں پہنچنا بند ہو گئی۔ پانی کی شدید قلت اور مٹی کے سخت ہو جانے کے باعث یہ عظیم درخت آہستہ آہستہ اندرونی طور پر کمزور ہوتا چلا گیا۔

اگرچہ یہ قدیم جنگل کئی برسوں سے ماحولیاتی تبدیلیاں اور مختلف خطرات کا سامنا کر رہا ہے، اور ماضی میں بھی کئی بار یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ یہ تاریخی درخت مر چکا ہے، تاہم ہر بار سائنسی تحقیق اور ماہرین کے معائنے کے بعد یہ ثابت ہوتا رہا کہ درخت اب بھی حیات ہے۔ مگر اس بار صورتحال بالکل مختلف اور افسوسناک ہے۔ ادارے کی نمائندہ ہولی ڈریک نے اپنے ایک بیان میں اس دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال درخت کا ایک بھی پتی نہ نکالنا ہم سب کے لیے اور تاریخ سے محبت کرنے والوں کے لیے دل توڑ دینے والی خبر ہے۔

 برطانوی لوک داستانوں کے مطابق یہی عظیم الشان درخت رابن ہُڈ اور اس کے ساتھیوں کی سب سے محفوظ ترین پناہ گاہ تھا۔ روایات کے مطابق رابن ہُڈ تیرہویں صدی کا ایک ایسا دلیر باغی تھا جو ظالم امیروں اور جاگیرداروں سے مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا۔جب بھی ناٹنگھم کا شیرف (پولیس افسر) اپنی بھاری نفری کے ساتھ اس کے تعاقب میں نکلتا، تو رابن ہُڈ شیرووڈ کے اسی گھنے جنگل میں آ کر روپوش ہو جاتا تھا اور اس میجر اوک کے وسیع پھیلاؤ کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔

ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ میجر اوک کا یوں سوکھ جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انسانوں کی بے جا مداخلت اور اوور ٹورازم (سیاحوں کا ضرورت سے زیادہ دباؤ) کس طرح زمین کے قدیم ترین جانداروں کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کر سکتے ہیں۔