رابن ہُڈ کے پناہ گزین درخت کی عمر پوری ہوگئی
Web Desk
24 June 2026
رابن ہُڈ کی صدیوں پرانی مشہور داستان سے منسلک ایک عظیم و قدیم بلوط (اوک) کا درخت شاید لوگوں کی حد سے زیادہ محبت اور مسلسل آمد و رفت کا شکار ہو کر بالآخر سوکھ گیا ہے۔ ‘رائل سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف برڈز’ (RSPB) نے میجر اوک (Major Oak) نامی اس تقریباً 1200 سال پرانے تاریخی درخت کو باقاعدہ طور پر مردہ قرار دے دیا ہے، کیونکہ اس موسمِ بہار میں درخت نے روایتی طور پر کوئی نئی پتیاں نہیں نکالیں۔
تحفظِ ماحول کی عالمی تنظیم کے مطابق، گزشتہ دو صدیوں کے دوران اس تاریخی درخت کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے آنے والے بے شمار سیاحوں کے پیروں تلے اس کے اردگرد کی مٹی اس حد تک دب گئی کہ بارش کا پانی اور ضروری غذائیت اس کی جڑوں تک مؤثر انداز میں پہنچنا بند ہو گئی۔ پانی کی شدید قلت اور مٹی کے سخت ہو جانے کے باعث یہ عظیم درخت آہستہ آہستہ اندرونی طور پر کمزور ہوتا چلا گیا۔
اگرچہ یہ قدیم جنگل کئی برسوں سے ماحولیاتی تبدیلیاں اور مختلف خطرات کا سامنا کر رہا ہے، اور ماضی میں بھی کئی بار یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ یہ تاریخی درخت مر چکا ہے، تاہم ہر بار سائنسی تحقیق اور ماہرین کے معائنے کے بعد یہ ثابت ہوتا رہا کہ درخت اب بھی حیات ہے۔ مگر اس بار صورتحال بالکل مختلف اور افسوسناک ہے۔ ادارے کی نمائندہ ہولی ڈریک نے اپنے ایک بیان میں اس دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سال درخت کا ایک بھی پتی نہ نکالنا ہم سب کے لیے اور تاریخ سے محبت کرنے والوں کے لیے دل توڑ دینے والی خبر ہے۔
برطانوی لوک داستانوں کے مطابق یہی عظیم الشان درخت رابن ہُڈ اور اس کے ساتھیوں کی سب سے محفوظ ترین پناہ گاہ تھا۔ روایات کے مطابق رابن ہُڈ تیرہویں صدی کا ایک ایسا دلیر باغی تھا جو ظالم امیروں اور جاگیرداروں سے مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا۔جب بھی ناٹنگھم کا شیرف (پولیس افسر) اپنی بھاری نفری کے ساتھ اس کے تعاقب میں نکلتا، تو رابن ہُڈ شیرووڈ کے اسی گھنے جنگل میں آ کر روپوش ہو جاتا تھا اور اس میجر اوک کے وسیع پھیلاؤ کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ میجر اوک کا یوں سوکھ جانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انسانوں کی بے جا مداخلت اور اوور ٹورازم (سیاحوں کا ضرورت سے زیادہ دباؤ) کس طرح زمین کے قدیم ترین جانداروں کو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش کر سکتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
سابق کپتان وسیم اکرم کا لاپتا پالتو کتا مل گیا
31 July 2026
چین کا شاہکار: 625 میٹر بلندآبشار پُل، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
30 July 2026
برطانیہ: 116 سال بعد لائبریری کو کتابیں واپس لوٹا دی گئیں
30 July 2026
4 آم کی قیمت صرف ’’6 لاکھ 12 ہزار روپے‘‘
29 July 2026
بیوی کو تنہا نہ چھوڑنے کیلئے شوہر بھی گہرے مین ہول میں گرگیا
29 July 2026
مہنگی ترین طلاق، عدالت کا سابقہ بیوی کو 644 ملین ڈالر دینے کا حکم
29 July 2026
وسیم اکرم اور شنیرا کا پالتو کتا لاپتہ
29 July 2026
امریکا: 53 برس بعد بوتل میں بند پیغام مل گیا
28 July 2026