LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ن لیگ نئے صوبوں پر جلد فیصلہ کر کے اپنا مؤقف سامنے لائے گی: رانا ثنا اللہ حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان اسحاق ڈار القدس سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن روانہ آبنائے ہرمز معاہدے کی راہ ہموار، ایران کی عمان سے مثبت مذاکرات کی تصدیق وزیراعظم شہباز شریف 6 اور 7 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 7 ماہ میں 18 لاکھ سے زائد سمز بلاک روس میں کرپٹو کرنسی کے لیے جامع قانون منظور، صدر پوتن نے دستخط کر دیے فیلڈ مارشل کا این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ نیب کی 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 2.45 ٹریلین روپے ریکارڈ ریکوری آبنائے ہرمز پر مثبت پیش رفت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایران کو آخری موقع دے دیا، آبنائے ہرمز کل مکمل طور پر کھل جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدو رفت بحال، معاہدہ جلد طے پا جائے گا: اسکاٹ بیسنٹ کویت میں دھماکوں اور عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملے کی اطلاعات روسی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل تعلیمی انقلاب، 2 برس میں شرح خواندگی 35 فیصد بڑھانے کا ہدف

برطانیہ میں موجود ڈاکٹر روبوٹ کے ذریعے 1500 میل دور موجود مریض کا کامیاب آپریشن کرنے میں کامیاب

Web Desk

6 March 2026

طبی دنیا میں ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں لندن میں موجود سرجن نے جبرالٹر میں موجود مریض کا دور بیٹھ کر کامیاب آپریشن کر دیا۔
یہ منفرد سرجری جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن بنائی گئی جس کے ذریعے مثانے کے کینسر میں مبتلا 62 سالہ مریض کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔
جبرالٹر کے سینٹ برنارڈ اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں چار بازوؤں والے جدید روبوٹ کا استعمال کیا گیا جس میں ایک تھری ڈی کیمرا بھی نصب تھا۔
اس آپریشن کی نگرانی لندن کے علاقے ہارلے اسٹریٹ میں موجود معروف سرجن پروفیسر پروکر ڈسگپتا نے کی، جو لندن کلینک روبوٹک سینٹر آف ایکسیلینس کے سربراہ ہیں۔
پروفیسر پروکر نے لندن میں موجود کنسول کے ذریعے ٹوومائی روبوٹک سسٹم کو ہدایات دیں، جسے مائیکرو پورٹ کمپنی نے تیار کیا ہے۔ روبوٹ نے سرجن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مریض کے جسم سے متاثرہ مثانہ نکال دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن سے بھیجی جانے والی ہدایات صرف 0.06 سیکنڈ میں جبرالٹر میں موجود روبوٹ تک پہنچ رہی تھیں۔ آپریشن کے بعد مریض کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہا ہے۔
مریض کا کہنا تھا کہ اگر یہ جدید طریقہ استعمال نہ کیا جاتا تو اسے آپریشن کے لیے لندن جانا پڑتا اور وہاں اسپتال کی لمبی ویٹنگ لسٹ میں کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا۔
پروفیسر پروکر ڈسگپتا کے مطابق یہ کامیاب سرجری طبی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے اور مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں موجود مریضوں کا علاج آسان ہو سکے گا۔
اس سرجری کے دوران لندن میں موجود کنسول کو فائبر آپٹک نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا تھا جبکہ بیک اپ کے طور پر 5G کنکشن بھی تیار رکھا گیا تھا۔