LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 بچے سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کیلئے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن 6 سالہ بعد برطانیہ واپس پہنچ گئے بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضا مند ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف فوری نئے حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی میڈیا امریکا کا چین سے منسلک بڑا سائبر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ: پاکستان ٹیم کو دی جانیوالی غیرمعیاری رہائش کی تحقیقات شروع

Web Desk

17 February 2026

آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ کے دوران پاکستان ہاکی ٹیم کو مبینہ طور پر غیرمعیاری رہائش فراہم کیے جانے کے معاملے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق Pakistan Sports Board نے دورۂ آسٹریلیا کے لیے Pakistan Hockey Federation کو ٹیم کو فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرانے کی مد میں ایک کروڑ روپے سے زائد رقم فراہم کی تھی۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ قومی ٹیم کو ہوبارٹ میں گیسٹ ہاؤس میں قیام کرنا پڑا جبکہ سڈنی میں بھی کھلاڑیوں کو ایک رات گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی نوعیت اور فنڈز کے استعمال سے متعلق تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئیں اور رہائش کے انتظامات بین الاقوامی معیار کے مطابق تھے۔

تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی صورت حال واضح ہو سکے گی کہ آیا فنڈز کے استعمال میں کوئی بے قاعدگی ہوئی یا نہیں۔