LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ہنگاموں کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ ہے: فرانسیسی صدر پی ایم یوتھ پروگرام اور امریکی ادارے PRG میں تاریخی معاہدہ سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا بیرسٹر گوہر کی میڈیا سے گفتگو: سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ اور جنید اکبر کے پی کے صدر رہیں گے، تبدیلیوں کی تردید کرک میں سی ٹی ڈی اور پولیس پر دہشت گردوں کا حملہ: ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 4 اہلکار شہید، 2 دہشت گرد ہلاک پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کا اجلاس: علی امین گنڈاپور مذاکراتی نمائندہ نامزد، گورنر راج مسترد روس پر یوکرین کے بڑے ڈرون حملے، ماسکو کی جانب 630 ڈرونز کی پرواز، تین افراد زخمی ٹرمپ کا ہنگاموں کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ ہے: فرانسیسی صدر پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد اور زرمبادلہ ذخائر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: عالمی بینک رپورٹ ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی چیلنج: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاق اور نیب کو نوٹس 12 سال کی بچی کو بلیک میل کرنے پر 2 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم آذربائیجان کے راستے یورپ جانے کی غیر قانونی کوشش ناکام، 3 مسافر آف لوڈ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا پہلا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث پڑھ کر سنائی پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے گیارہویں جماعت 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا

ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف فوری نئے حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی میڈیا

Web Desk

27 August 2026

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا فی الحال ایران کے خلاف فوری نئے فوجی حملے کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ وہ نئی اقتصادی پابندیوں کے ذریعے تہران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور بحری جہازوں کی آمدورفت شروع ہونے سے ایران پر دباؤ میں کمی آئی ہے، جبکہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جائے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل کی برآمدات تقریباً رک چکی ہیں، اسی لیے فی الوقت واشنگٹن تہران سے مذاکرات کے بجائے اس پر معاشی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔