پاکستان کی پہلی کلاؤڈ پالیسی پر 4 سال بعد بھی عملدرآمد صفر
Web Desk
10 July 2026
پاکستان کی پہلی قومی کلاؤڈ پالیسی کی منظوری کے چار سال گزرنے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس کے باعث ملکی سلامتی اور شہریوں کا حساس ڈیٹا شدید سائبر خطرات سے دوچار ہے۔ آڈٹ رپورٹ اور باوثوق ذرائع کے مطابق، پالیسی کے تحت تمام سرکاری اداروں کے لیے الگ ڈیٹا سینٹرز بنانے کے بجائے کلاؤڈ سروسز اختیار کرنا اور تمام ڈیٹا ملکی سرورز پر محفوظ بنانا لازمی تھا، تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اب تک ڈیٹا سینٹرز کا لائسنسنگ فریم ورک تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ملک میں جگہ جگہ غیر رجسٹرڈ ڈیٹا سینٹرز کھلنے سے ریگولیٹری نگرانی مفقود ہو چکی ہے اور سائبر سکیورٹی کے سنگین رسک پیدا ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب، پی ٹی اے کا مؤقف ہے کہ نیا فریم ورک ابھی تیاری کے مراحل میں ہے اور روایتی لائسنسنگ لاگو نہیں کی گئی، جبکہ آڈٹ حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ قانون کے تحت بھی لائسنسنگ لازمی تھی اور اس تاخیر نے قومی ڈیٹا کی سکیورٹی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان
2 October 2026
گوگل نے نیا طاقتور اے آئی ماڈل ’جیمنائی 4 آرگون‘ متعارف کرا دیا
2 October 2026
امریکی حکومت کا نیا AI پورٹل ‘America.gov’ لانچ، جیمنائی اور گرک ماڈلز سے لیس چیٹ بوٹ متعارف
2 October 2026
دبئی میں بلاک چین لائف 2026ء، کرپٹو اور اے آئی دنیا کا بڑا اجتماع
1 October 2026
سائنسدان 3 لاکھ 15 ہزار سال قدیم انسان کا ڈیجیٹل چہرہ تشکیل دینے میں کامیاب
1 October 2026
بچوں میں سوشل میڈیا کا استعمال روکنے اور عمر کی تصدیق کا اختیار نہیں: پی ٹی اے
1 October 2026
فولڈ ایبل آئی فون کی فروخت سے متعلق اہم انکشاف!
1 October 2026
پاکستان میں G5 کی اوسط ڈاؤن لوڈ سپیڈ 127.74 ایم بی پی ایس ریکارڈ
30 September 2026