LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شروع، آزادکشمیر میں حکومت سازی پر غور بھارتی حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا لبنانی حکومت فوج کو اسرائیلی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے: حزب اللہ انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ ٹل گیا، 20 افراد جاں بحق وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں، بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہیں: شیخ رشید امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ صدر ٹرمپ نے مذاقاً آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا: وائٹ ہاؤس ناگا عوام بھی 14 اگست کو یومِ آزادی سمجھتے ہیں: ناگا خاتون آزاد کشمیر الیکشن: باغ کے دو حلقوں کے 23 پولنگ سٹیشنوں پر ری پولنگ کا آغاز سابق فوجی افسران و جوانوں کا تجربہ و رہنمائی ادارہ جاتی اثاثہ ہے: فیلڈ مارشل لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 افراد جاں بحق یو نائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے سی ای او قتل کیس: لوئیگی مانجیونی نے امریکی فیڈرل کورٹ میں جرم قبول کر لیا نیویارک: کوئینز بورو ہال میں پاکستان کا یومِ آزادی شاندار انداز میں منایا گیا، کمیونٹی رہنماؤں کو ایوارڈز بھی دیئے گئے انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں شدید زلزلہ، شدت 7.7 ریکارڈ

سینیٹ آبی وسائل کمیٹی؛ 508 ارب کا نیلم جہلم منصوبہ ٹنل فالٹ کے باعث بند، 2028ء میں دوبارہ فعال کرنے کا ہدف،

Web Desk

10 July 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں 508 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کی بندش اور اس کے مستقبل پر تفصیلی بحث ہوئی ہے۔ کمیٹی اراکین کی جانب سے اتنے مہنگے منصوبے کے بند پڑے ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، جس پر چیئرمین واپڈا نے بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ نیلم جہلم اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے جس کا دارومدار مکمل طور پر ٹنلز (سرنگوں) پر ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس منصوبے کے حوالے سے شروع سے ہی تحفظات موجود تھے، تاہم پاکستان اور بھارت کے مابین نیلم کے پانی پر اپنا قانونی حق قائم کرنے کی ایک دوڑ جاری تھی، جس کے باعث یہ منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا گیا۔ چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ ٹنلز میں پیدا ہونے والے ٹیکنیکل فالٹ کی وجہ سے منصوبے کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا، لیکن یہ ایک انتہائی منافع بخش منصوبہ ہے جو اب تک اپنی کل لاگت کا 80 فیصد حصہ کما کر پورا کر چکا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر یہ منصوبہ مزید دو سال چل گیا تو اس کی پوری لاگت وصول ہو جائے گی، اور متعلقہ وزارت کے ساتھ مشاورت کے بعد اس منصوبے کو سال 2028ء تک دوبارہ مکمل فعال کر دیا جائے گا۔