LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات

یوکرینی حملوں سے ایک ہفتے میں 38 روسی شہری ہلاک ہوئے: ماریہ زخارووا

Web Desk

10 July 2026

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرینی فورسز کے حملوں کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 38 روسی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ روس یوکرین جنگ کی تازہ ترین صورتحال پر جاری اپنے ایک بیان میں ماریہ زخارووا کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں یوکرینی جنگجوؤں کی کارروائیوں سے مجموعی طور پر 308 عام شہری متاثر ہوئے، جن میں سے 38 افراد جاں بحق اور 8 بچوں سمیت 270 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ روسی ترجمان نے یوکرینی صدر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت روس کی سویلین آبادی اور اہم بنیادی ڈھانچے (Infrastructures) کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے اور ان حملوں میں مسلسل شدت لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی اقدامات کا اصل مقصد اپنے مغربی سرپرستوں کو یہ باور کرانا ہے کہ ان کی فراہم کردہ عسکری و مالی امداد مؤثر طریقے سے استعمال ہو رہی ہے، تاکہ جنگ کو طول دینے کے لیے مغرب سے مزید جدید ترین فوجی امداد حاصل کی جا سکے۔