LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان، جنگ بندی ختم ہونے کا دعویٰ آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ؛ حکومت نے وفاق سے رینجرز اور ایف سی اہلکار مانگ لیے ’جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘، نیتن یاہو کی ایران کو سخت وارننگ عوامی مسائل نظرانداز، حافظ نعیم الرحمان کا ملک گیر احتجاج کا اعلان ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان، جنگ بندی ختم ہونے کا دعویٰ غیر ملکی ملازمین کے لیے استعمال ہونے والے ویزا سسٹم میں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی بے نقاب نجکاری کمیشن بورڈ کا اہم فیصلہ: اسلام آباد ایئرپورٹ نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری معاہدے کی منظوری اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی کڑی تنقید؛ “ہزاروں کا قتل کرنے والے حقِ حکمرانی کھو چکے یوکرینی حملوں سے ایک ہفتے میں 38 روسی شہری ہلاک ہوئے: ماریہ زخارووا سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا: سربراہ پاسداران انقلاب گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی اولین ترجیحات ہے: وزیراعظم وزیراعظم سے اقوام متحدہ کی سیکرٹری شپ کے امیدواروں کی ملاقاتیں، عالمی امن کے عزم کا اعادہ جدید جوڈیشل ٹاور منصوبے کا آغاز، چیف جسٹس عالیہ نیلم کل سنگِ بنیاد رکھیں گی وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور مسماری کے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لئے سینیٹ آبی وسائل کمیٹی؛ 508 ارب کا نیلم جہلم منصوبہ ٹنل فالٹ کے باعث بند، 2028ء میں دوبارہ فعال کرنے کا ہدف،

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ؛ حکومت نے وفاق سے رینجرز اور ایف سی اہلکار مانگ لیے

Web Desk

10 July 2026

آزاد کشمیر حکومت نے ریاست میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے وفاقی حکومت سے فوری عسکری و سکیورٹی معاونت کی درخواست کر دی ہے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ کو بھیجے گئے ایک ہنگامی مراسلے میں حکومت نے فیڈرل کانسٹیبلری (FC) کے 4 ہزار اہلکار اور پاکستان رینجرز کی 7 ونگز فوری طور پر طلب کی ہیں۔ مراسلے میں کالعدم جے کے جے اے اے سی (JKJAAC) کی سرگرمیوں کو امن و امان کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ پرتشدد جھڑپوں میں 4 سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 174 شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ مراسلے کے مطابق پونچھ اور راولاکوٹ میں دھرنے جبکہ دیگر اضلاع میں احتجاجی سرگرمیوں کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جہاں مسلح عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اشیائے خورونوش لے جانے والے ٹرکوں کو بھی نذرِ آتش کیا۔ آزاد کشمیر حکومت کی اس باقاعدہ درخواست پر وفاق نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اسلام آباد سے رینجرز اور ایف سی کے دستے روانہ کر دیے ہیں، جنہیں حساس اضلاع میں مرحلہ وار تعینات کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والی نفری کا 50 فیصد اسلحہ و گولہ بارود اور 50 فیصد اینٹی رائٹ (انسدادِ ہنگامہ آرائی) کے آلات سے لیس ہوگا، جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔