LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت شادی کی تقریب میں حملہ: ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا تحقیقات کیلئے عالمی عدالت سے رجوع روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد دے رہا: برطانوی میڈیا جرمنی میں ڈرون حملے کی کوشش، یورپی یونین کا روس پر دباؤ بڑھانے کا اعلان ایران نے شادی کی تقریب پر حملے کو واشنگٹن کی اخلاقی گراوٹ کی ایک اور مثال قرار دیدیا امریکی حملوں میں 19 افراد شہید، 108 زخمی ہوئے: ایرانی وزیر صحت کی تصدیق ایران اسرائیل کیساتھ دوبارہ جنگ سے پہلے امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا: عالمی تجزیہ کار صومالی تنظیم الشباب اور یمنی حوثیوں کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی اطلاعات میری ٹائم اتحاد میں شمولیت کیلئے ضروری مراحل مکمل کر لیے گئے، سعودی وزارت دفاع جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 900 سے زائد فلسطینی شہید: وزارتِ صحت جغرافیائی، سیاسی کشیدگی: 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے برطانیہ منتقل

’ امریکہ کی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی جس کا روس نے خیر مقدم کیا

Web Desk

7 December 2025

روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’ماسکو کے ویژن سے ہم آہنگ‘ ہے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے 33 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں یورپ کو ‘تہذیبی خاتمے’ کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں روس کو امریکہ کے لیے خطرہ نہیں سمجھا گیا۔

یورپی یونین کے حکام اور تجزیہ کاروں نے اس حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں استعمال ہونے والی زبان کریملن کے بیانیے سے ملتی جلتی ہے۔ ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی خبر رساں ایجنسی ‘تاس’ کو بتایا ‘ہم جو تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں، وہ بڑی حد تک ہمارے ویژن سے مطابقت رکھتی ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘ہم اسے مثبت قدم سمجھتے ہیں۔ تاہم حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے اس دستاویز کا مزید تجزیہ کریں گے۔’

یورپی یونین کے حکام نے کہا کہ امریکہ نیٹو میں ‘ہمارا سب سے اہم اتحادی ہے لیکن آزادیِ اظہار جیسے معاملات حکمتِ عملی کا حصہ نہیں ہونے چاہییں۔’

جرمن وزیرِ خارجہ ویڈیفل نے کہا کہ ‘ہماری آزاد معاشرت کے ڈھانچے پر کسی کو مشورہ دینے کی ضرورت نہیں۔’

یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز نے اس حکمتِ عملی کو ‘انتہائی دائیں بازو سے بھی آگے’ قرار دیا۔ جبکہ سویڈن کے سابق وزیرِ اعظم کارل بلڈٹ نے کہا کہ ‘اس میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے جو عام طور پر کریملن کے بیانیے سے ملتی ہے۔’

جبکہ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ یہ حکمتِ عملی امریکہ کے عالمی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ رکنِ کانگریس جیسن کرو نے اسے ‘امریکہ کی عالمی حیثیت کے لیے تباہ کن’ قرار دیا۔