LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
14 اگست کو احتجاج کرنے والے ہم میں سے نہیں: اختیار ولی پی ٹی آئی پر برس پڑے امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید

یورپ میں گرمی، سپین کے جنگلات میں آگ لگ گئی، 12 افراد ہلاک

Web Desk

10 July 2026

جنوبی یورپ میں جاری شدید ترین ہیٹ ویو اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث اسپین، فرانس اور پرتگال کے جنگلات میں لگی آگ نے تباہی مچا دی ہے۔ اسپین کے جنوب مشرقی صوبے المیریا کے علاقے لوس گایاردوس میں بھڑکنے والی خوفناک جنگلاتی آگ کے نتیجے میں اب تک 12 افراد ہلاک جبکہ 6 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ اندلس کی علاقائی حکومت کے مطابق، ہلاک ہونے والے بعض افراد کی لاشیں ان کی جھلسی ہوئی گاڑیوں سے برآمد ہوئیں جو فرار ہوتے وقت آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ آگ بجلی کی ہائی ٹینشن لائن گرنے کی وجہ سے لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اندلس کے صدر خوانما مورینو نے اس واقعے کو بڑا قومی سانحہ قرار دیا ہے، جہاں 150 سے زائد فائر فائٹرز اور اسپین کی ملٹری ایمرجنسی یونٹ (UME) امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ آگ کے باعث ہائی ویز بند کر دی گئی ہیں اور 1,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا تیزی سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت ایسے ہولناک واقعات کی بڑی وجہ ہے۔