LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دھماکوں کی اطلاعات غلط ہیں، آواز فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کی تھی: ایرانی میڈیا ایران کیساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہیں: امریکی حکام کا دعویٰ ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن پر امریکا میں منی لانڈرنگ کے الزامات، تحقیقات شروع بھارت اور اسرائیل پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے، راناثنااللہ چین میں جوتے کی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک زرمبادلہ ذخائر میں بڑا اضافہ، 5 سال بعد 24 ارب ڈالر کی سطح کو چھولیا ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.7 فیصد تک گھٹا دیا کارگو طیارہ حادثہ، عملے کے 5 ارکان، بلیک باکس کو تلاش نہ کیا جا سکا امریکا نے گزشتہ چند گھنٹوں میں ایران میں کوئی کارروائی کی نہ فضائی حملے کئے: دفاعی حکام ایران پر حالیہ حملوں کے پیچھے یقینی طور پر اسرائیل ہے: ڈین گریزیئر ایرانی فضائی دفاعی نظام نے امریکی ایم کیو نائن ڈرون تباہ کر دیا، پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں غیر ملکی طاقتوں کا کوئی حق یا کردار نہیں: ایرانی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت ایران کے مقررہ راستوں کے ذریعے ناممکن ہے: سینٹ کام ایرانی فوج کا ایک بار پھر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان فیفا ورلڈ کپ: فرانس مراکش کو 2 صفر سے شکست دیکر سیمی فائنل میں پہنچ گیا

ایران کیساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہیں: امریکی حکام کا دعویٰ

Web Desk

10 July 2026

امریکہ اور ایران کے مابین جاری شدید ترین فوجی تصادم اور فضائی حملوں کے بیچ امریکی حکام نے ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات (Technical-level Talks) اس وقت بھی جاری ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ پیدا ہونے والے سنگین مسائل کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہے۔ یہ حیرت انگیز سفارتی پیش رفت ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے مابین جنگی جنون عروج پر پہنچ چکا ہے؛ امریکی فوج کی جانب سے گزشتہ دو روز سے ایران کے اندر مسلسل فضائی حملے کیے جا رہے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے بھی سخت کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو (NATO) سربراہ کے ساتھ ایک اہم ملاقات کے بعد میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بالکل مختلف اور سخت ترین موقف اپنایا تھا۔ صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ ایرانیوں کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کرنا چاہتے اور ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی بھی اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایرانیوں کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ اب تک اسے ضرور استعمال کر چکے ہوتے، اس لیے وہ ایران کے ساتھ بات چیت کر کے اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے۔ صدر ٹرمپ کے اس سخت بیان کے برعکس اب امریکی دفاعی و سفارتی حکام کی جانب سے تکنیکی مذاکرات جاری رہنے کے دعوے نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کہ آیا پسِ پردہ جنگ بندی کی کوئی نئی کوشش کی جا رہی ہے یا نہیں۔