LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حج 2027 کی درخواستوں کی وصولی 18 اگست سے شروع ہوگی، وزارت مذہبی امور نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ کے دورۂ شام و لبنان اور سیکیورٹی تنازع پر ’غلط فہمی‘ کی وضاحت 14 اگست کو احتجاج کرنے والے ہم میں سے نہیں: اختیار ولی پی ٹی آئی پر برس پڑے امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے

ایران پر حالیہ حملوں کے پیچھے یقینی طور پر اسرائیل ہے: ڈین گریزیئر

Web Desk

9 July 2026

سابق امریکی میرین اور دفاعی تجزیہ کار ڈین گریزیئر نے ایران میں ہونے والے حالیہ شدید حملوں کے حوالے سے ایک بڑا تزویراتی دعویٰ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک ‘الجزیرہ’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈین گریزیئر نے امریکی دفاعی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران میں ہونے والی حالیہ فوجی کارروائیوں کے پیچھے خود امریکہ براہِ راست ملوث نہیں ہے، تو پھر یقینی طور پر اس کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ان تمام فضائی حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد اسرائیل نے کیا ہو، تاہم حتمی نتیجے کے لیے ہمیں اسرائیل کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید کا انتظار کرنا ہوگا۔

سابق امریکی میرین نے واشنگٹن کے ملوث نہ ہونے کی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ خالصتاً امریکہ کی فوجی کارروائی ہوتی، تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اب تک اس کا کریڈٹ لے چکی ہوتی اور باقاعدہ طور پر اس کی ذمہ داری قبول کر لیتی۔ انہوں نے ان حملوں کے عسکری مقاصد کا تجزیہ کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ایران میں ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز جیسی اہم عالمی تجارتی گزرگاہ میں بحری جہاز رانی میں خلل ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو مستقل طور پر محدود کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایران میں جان بوجھ کر ایسے اسٹریٹجک اہداف اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو مستقبل میں کسی بھی بڑے فضائی حملے کے خلاف دفاعی ڈھال کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں، تاکہ ایران کی جوابی کارروائی کی طاقت کو کچلا جا سکے