LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی چین نے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا امریکا کیساتھ معاہدہ: روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا

جگر کے مریضوں کیلئے آزمائی گئی نئی سیل تھراپی

Web Desk

29 May 2026

لندن: طبی ماہرین نے جگر کے شدید اور خطرناک ترین مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک نئی ’سیل تھراپی‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے طبی دنیا میں لیور فیلر کے مریضوں کے لیے ایک حقیقی اور بڑی امید قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق، ایک جامع کلینیکل ٹرائل کے دوران یہ نئی سیل تھراپی حیران کن حد تک مؤثر اور جاندار ثابت ہوئی ہے۔ ٹرائل کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن مریضوں کو روایتی طریقہ علاج کے بجائے یہ جدید سیل تھراپی دی گئی، ان میں چار سال کے عرصے کے بعد موت کا امکان یا لیور ٹرانسپلانٹ (جگر کی پیوند کاری) کی ضرورت کا خطرہ عام علاج کروانے والے مریضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھا گیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جگر میں خود کو دوبارہ بنانے اور صدمات سے بحال کرنے کی ایک قدرتی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن جب مرض حد سے زیادہ بڑھ جائے تو جگر پر شدید زخم اور گہرے داغ پڑ جاتے ہیں، جسے طبی زبان میں ’سیروسس‘ (Cirrhosis) کہا جاتا ہے۔

سیروسس جگر کو اس حد تک ناقابلِ مرمت نقصان پہنچاتا ہے کہ جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جسے ’لیور فیلر‘ کہتے ہیں۔ اب تک ایسے مریضوں کے لیے دنیا بھر میں واحد علاج صرف اور صرف انتہائی مہنگا اور مشکل لیور ٹرانسپلانٹ ہی تصور کیا جاتا تھا۔

ماہرینِ طب کے مطابق، یہ نئی سیل تھراپی اب ان مایوس مریضوں کے لیے ایک انقلابی متبادل بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر اس تھراپی کے حوالے سے آئندہ ہونے والی مزید تحقیقات بھی اسی طرح کامیاب رہیں، تو یہ طریقہ علاج مستقبل قریب میں دنیا بھر کے لاکھوں ایسے مریضوں کی زندگیاں بچانے کا ضامن بن جائے گا جو جگر کے آخری اسٹیج کے امراض سے لڑ رہے ہیں۔