LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کراچی پورٹ کے قریب دو بحری جہازوں میں خوفناک تصادم، کنٹینرز سمندر میں گر گئے گلگت بلتستان کی الیکشن مہم کے دوران پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گرفتار امریکی حکام کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات قابلِ مذمت ہیں: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسلام آباد: سیکٹر آئی 10 میں واقع گھر میں سلنڈر دھماکا، 2 افراد جاں بحق صوبائی حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار واشنگٹن پہنچ گئے صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا بجٹ اور سینیٹ اجلاس بلانے کی منظوری دیدی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی عالمی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی خدمات جاری رہیں گی: وزیراعظم عید کا تیسرا روز: قربانی اور دعوتوں کے ساتھ سیرسپاٹوں کا پلان بھی تیار امریکہ اور ایران معاہدے کے قریب ہیں ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس  گورنر سندھ کی مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد سے ملاقات معروف شاعر بشیر بدر 91برس کی عمر میں بھوپال میں انتقال کر گئے نیو یارک : اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو امریکا: سابق خفیہ ادارے کے افسر کے گھر سے کروڑوں ڈالر مالیت کی سونے کی اینٹیں برآمد

جگر کے مریضوں کیلئے آزمائی گئی نئی سیل تھراپی

Web Desk

29 May 2026

لندن: طبی ماہرین نے جگر کے شدید اور خطرناک ترین مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک نئی ’سیل تھراپی‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے طبی دنیا میں لیور فیلر کے مریضوں کے لیے ایک حقیقی اور بڑی امید قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق، ایک جامع کلینیکل ٹرائل کے دوران یہ نئی سیل تھراپی حیران کن حد تک مؤثر اور جاندار ثابت ہوئی ہے۔ ٹرائل کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن مریضوں کو روایتی طریقہ علاج کے بجائے یہ جدید سیل تھراپی دی گئی، ان میں چار سال کے عرصے کے بعد موت کا امکان یا لیور ٹرانسپلانٹ (جگر کی پیوند کاری) کی ضرورت کا خطرہ عام علاج کروانے والے مریضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھا گیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جگر میں خود کو دوبارہ بنانے اور صدمات سے بحال کرنے کی ایک قدرتی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن جب مرض حد سے زیادہ بڑھ جائے تو جگر پر شدید زخم اور گہرے داغ پڑ جاتے ہیں، جسے طبی زبان میں ’سیروسس‘ (Cirrhosis) کہا جاتا ہے۔

سیروسس جگر کو اس حد تک ناقابلِ مرمت نقصان پہنچاتا ہے کہ جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جسے ’لیور فیلر‘ کہتے ہیں۔ اب تک ایسے مریضوں کے لیے دنیا بھر میں واحد علاج صرف اور صرف انتہائی مہنگا اور مشکل لیور ٹرانسپلانٹ ہی تصور کیا جاتا تھا۔

ماہرینِ طب کے مطابق، یہ نئی سیل تھراپی اب ان مایوس مریضوں کے لیے ایک انقلابی متبادل بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر اس تھراپی کے حوالے سے آئندہ ہونے والی مزید تحقیقات بھی اسی طرح کامیاب رہیں، تو یہ طریقہ علاج مستقبل قریب میں دنیا بھر کے لاکھوں ایسے مریضوں کی زندگیاں بچانے کا ضامن بن جائے گا جو جگر کے آخری اسٹیج کے امراض سے لڑ رہے ہیں۔