LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری ایران اور امریکا مزید کشیدگی روک کر مذاکرات کی طرف واپس آئیں: چین وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لیے حکمت عملی بنانے کا حکم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

جگر کے مریضوں کیلئے آزمائی گئی نئی سیل تھراپی

Web Desk

29 May 2026

لندن: طبی ماہرین نے جگر کے شدید اور خطرناک ترین مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک نئی ’سیل تھراپی‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے طبی دنیا میں لیور فیلر کے مریضوں کے لیے ایک حقیقی اور بڑی امید قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق، ایک جامع کلینیکل ٹرائل کے دوران یہ نئی سیل تھراپی حیران کن حد تک مؤثر اور جاندار ثابت ہوئی ہے۔ ٹرائل کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن مریضوں کو روایتی طریقہ علاج کے بجائے یہ جدید سیل تھراپی دی گئی، ان میں چار سال کے عرصے کے بعد موت کا امکان یا لیور ٹرانسپلانٹ (جگر کی پیوند کاری) کی ضرورت کا خطرہ عام علاج کروانے والے مریضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھا گیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جگر میں خود کو دوبارہ بنانے اور صدمات سے بحال کرنے کی ایک قدرتی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن جب مرض حد سے زیادہ بڑھ جائے تو جگر پر شدید زخم اور گہرے داغ پڑ جاتے ہیں، جسے طبی زبان میں ’سیروسس‘ (Cirrhosis) کہا جاتا ہے۔

سیروسس جگر کو اس حد تک ناقابلِ مرمت نقصان پہنچاتا ہے کہ جگر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جسے ’لیور فیلر‘ کہتے ہیں۔ اب تک ایسے مریضوں کے لیے دنیا بھر میں واحد علاج صرف اور صرف انتہائی مہنگا اور مشکل لیور ٹرانسپلانٹ ہی تصور کیا جاتا تھا۔

ماہرینِ طب کے مطابق، یہ نئی سیل تھراپی اب ان مایوس مریضوں کے لیے ایک انقلابی متبادل بن کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر اس تھراپی کے حوالے سے آئندہ ہونے والی مزید تحقیقات بھی اسی طرح کامیاب رہیں، تو یہ طریقہ علاج مستقبل قریب میں دنیا بھر کے لاکھوں ایسے مریضوں کی زندگیاں بچانے کا ضامن بن جائے گا جو جگر کے آخری اسٹیج کے امراض سے لڑ رہے ہیں۔