LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی چین نے بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر طریقہ تنازعات اور تشدد کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا امریکا کیساتھ معاہدہ: روس نے ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ کر دیا

سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!

Web Desk

29 May 2026

لندن: برطانیہ میں سامنے آنے والی ایک نئی اور انتہائی تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال نوجوان نسل کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے ’سگریٹ نوشی جتنا خطرناک‘ ثابت ہو رہا ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ’گروئینگ اپ اِن دی آن لائن ورلڈ‘ (Growing up in the online world) نامی اہم مشاورت حال ہی میں ختم ہوئی ہے۔ اس مشاورت کے دوران کم عمر صارفین کو آن لائن دنیا کے خطرات سے بچانے کے لیے آسٹریلیا کی طرز پر سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات (اسکرین ٹائم) کو محدود کرنے اور پلیٹ فارمز کے نشہ آور (Addictive) فیچرز پر قدغن لگانے جیسے اہم اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اس سرکاری مشاورت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں ‘اکیڈمی آف میڈیکل رائل کالجز’ نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اس وقت طبی ماہرین اور ڈاکٹرز ایک ایسی نسل کا سامنا کر رہے ہیں جو آن لائن دنیا میں موجود نفرت انگیز، ذہنی طور پر تباہ کن اور انتہائی لت لگانے والے مواد کے زیرِ اثر آکر تیزی سے انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں شامل اکیڈمی کے 454 ڈاکٹروں پر کیے گئے ایک باقاعدہ سروے کے دوران سنسنی خیز حقائق سامنے آئے ہیں:

سروے کے مطابق، تقریباً نصف (50 فیصد) ڈاکٹروں نے اعتراف کیا کہ وہ ہر ہفتے کم از کم ایک ایسے بچے کا علاج کر رہے ہیں جس کی ذہنی تکلیف، ڈپریشن یا جسمانی چوٹ کا براہِ راست تعلق کسی نہ کسی آن لائن یا سوشل میڈیا مواد سے جڑا ہوا تھا۔

طبی ماہرین نے برطانوی حکومت اور والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اس ڈیجیٹل وبا کو عام نہ لیں اور بچوں کو اسکرین سے دور رکھنے کے لیے فوری اور سخت قوانین متعارف کرائے جائیں، ورنہ مستقبل میں اس کے نتائج مزید بھیانک ہو سکتے ہیں۔