ایبولا وائرس کی نئی قسم کیخلاف ویکسین سے متعلق اہم پیشرفت
Web Desk
23 May 2026
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک آف دی کانگو (DRC) میں پھیلے ایبولا وائرس کی ایک نئی اور انتہائی خطرناک قسم کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ طبی ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ نئی ویکسین چند ہی ماہ کے اندر کلینیکل ٹرائلز (انسانوں پر آزمائش) کے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت کانگو میں ایبولا کی ’بیونڈی بُگیو‘ (Bundibugyo) نامی خطرناک قسم کا پھیلاؤ جاری ہے، جس نے صحت کے عالمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک اس وائرس سے 7 افراد کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید 177 اموات کے پیچھے بھی اسی مہلک وائرس کے ملوث ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ایبولا کی اس مخصوص قسم کے خلاف دنیا میں تاحال نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی اس کا کوئی باقاعدہ مؤثر علاج موجود ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر آکسفورڈ کے ماہرین نے جمعے کے روز بتایا کہ وہ جنگی بنیادوں پر ایک ایسی ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے ہیں، جسے وائرس کے بے قابو پھیلاؤ کی صورت میں فوری طور پر استعمال کیا جا سکے۔
جدید ’وائرل ویکٹر‘ ٹیکنالوجی کا استعمال
آکسفورڈ کے محققین کی ٹیم اس وقت ChAdOx1 BDBV نامی ویکسین تیار کر رہی ہے، جو سائنسی دنیا کی جدید ترین ’وائرل ویکٹر‘ (Viral Vector) ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ یہ وہی کامیاب اور آزمودہ طریقہ کار ہے جو اس سے قبل کورونا وائرس (کووڈ-19) سمیت کئی دیگر اچانک ابھرنے والی عالمی وباؤں کی ویکسینز کی تیاری میں کامیابی سے استعمال کیا جا چکا ہے۔
وائرل ویکٹر ویکسین کیا ہے؟ اس جدید طریقہ علاج میں ایک بے ضرر اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس کو بطور ‘ڈیلیوری سسٹم’ (محفوظ قاصد) استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ وائرس انسانی خلیوں تک مخصوص جینیاتی ہدایات پہنچاتا ہے، جس کی مدد سے ہمارا مدافعتی نظام وائرس کے اصل حصوں کو پہچان کر اس کے خلاف پہلے ہی سے ایک مضبوط حفاظتی ڈھال یا مدافعت پیدا کر لیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی اس تیز رفتار سائنسی پیش رفت سے نہ صرف کانگو بلکہ عالمی سطح پر اس وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی، اور یہ ویکسین ایبولا کی اس نایاب مگر مہلک قسم کے خلاف ایک اہم ترین ہتھیار ثابت ہو گی۔
متعلقہ عنوانات
پھیپھڑوں میں خون جمنا کتنا خطرناک؟ پلمونری ایمبولزم خاموش مگر جان لیوا بیماری قرار
23 May 2026
عالمی ادارۂ صحت نے کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وبا کی صورتحال کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا
23 May 2026
پنجاب حکومت کا ڈی جی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال بنانے کا فیصلہ
22 May 2026
انسدادِ پولیو مہم، 1 کروڑ 74 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن مکمل
22 May 2026
غزہ میں صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا: اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا
22 May 2026
سائنسدانوں کی میڈیکل میں اہم پیشرفت، اون سے ہڈیوں کا علاج ممکن بنادیا
21 May 2026
افریقی ممالک میں ایبولا وائرس کی وبا، پاکستان میں ہائی الرٹ جاری
21 May 2026
ورلڈ بنک کا پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے اپنا تعاون جاری رکھنے کا اعلان
21 May 2026