کراچی پورٹ کے قریب دو بحری جہازوں میں خوفناک تصادم، کنٹینرز سمندر میں گر گئے
Web Desk
29 May 2026
کراچی: کراچی بندرگاہ کی حدود کے باہر دو غیر ملکی بحری جہازوں کے درمیان غیر معمولی طور پر براہِ راست تصادم ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایک جہاز کے متعدد کنٹینرز سمندر میں گر گئے جبکہ دوسرے جہاز کے اگلے حصے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم، خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
پورٹ ذرائع کے مطابق، یہ بحری حادثہ 28 مئی کی شب کراچی پورٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ’ایم وی پاپو‘ (MV Papu) اور ’ایم وی نیوا‘ (MV Neva) نامی دو بڑے جہاز آپس میں ٹکرا گئے۔ تصادم کے نتیجے میں ایم وی پاپو پر لدے کئی قیمتی کنٹینرز توازن بگڑنے سے سمندر برد ہو گئے، جبکہ ایم وی نیوا کے ابتدائی (اگلے) حصے کو نقصان پہنچا۔حادثے کے فوری بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے عملے نے پائلٹ ٹگس کی مدد سے ہنگامی آپریشن شروع کیا۔ پورٹ حکام کے مطابق
-
ایم وی نیوا: متاثرہ کیبل بچھانے والے اس جہاز کو کے پی ٹی ٹگس کی مدد سے بحفاظت بندرگاہ منتقل کر کے برتھ نمبر 5 پر لنگر انداز کر دیا گیا ہے، جہاں اس کی ضروری مرمت کی جائے گی۔
-
ایم وی پاپو: یہ جہاز اس وقت سمندر کے بیرونی اینکریج (Outer Anchorage) میں موجود ہے، جہاں اس کے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
چیئرمین کراچی پورٹ ایڈمرل شاہد احمد نے واضح کیا کہ متاثرہ جہازوں کو ہر ممکن تکنیکی اور آپریشنل معاونت فراہم کر دی گئی ہے اور کراچی پورٹ پر بحری جہازوں کی آمد و رفت اور دیگر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
وفاقی وزیر بحری امور کی وضاحت اور انکوائری کا حکم
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اس بحری حادثے پر تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ 28 مئی کی رات بندرگاہ کی حدود سے باہر رونما ہوا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ حادثے میں کوئی جانی نقصان یا کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ یہ حادثہ ابتدائی طور پر دونوں جہازوں کے کپتانوں (ماسٹرز) کی مبینہ غفلت کے باعث پیش آیا۔
جنید انوار چوہدری نے واقعے کی باقاعدہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے مشکل وقت میں بندرگاہ پر بروقت ردعمل دینے اور مؤثر انتظامات کو یقینی بنانے پر کے پی ٹی کے عملے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور عزم دہرایا کہ حکومت بحری سلامتی یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے۔
متعلقہ عنوانات
حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ
9 July 2026
محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع
9 July 2026
آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف
9 July 2026
کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل
9 July 2026
محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
9 July 2026
کچھ دیر پہلے ایران کی جانب معاہدے کیلئے رابطہ کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
9 July 2026
امریکہ کا ایران میں 90 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، بحرین اور کویت میں سائرن بج گئے
9 July 2026
ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام، حملہ کیا تو بھرپور جواب ملے گا: قالیباف
9 July 2026