LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بغیر چمچوں اور پروٹوکول کے باہر نکلیں تاکہ اندازہ ہو،خواجہ اظہار الحسن کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل

مٹاپے کیخلاف جی ایل پی-1 ادویات دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟

Web Desk

26 May 2026

امریکہ کے مایہ ناز طبی تحقیقاتی ادارے ‘نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ’ (NIH) کے محققین نے وزن کم کرنے اور موٹاپے کے علاج کے لیے دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والی ادویات (جنہیں طبی زبان میں جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹس کہا جاتا ہے) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور انقلابی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سائنس دانوں نے پہلی بار دماغی خلیوں (نیورونز) کے اندر ان ادویات کے کام کرنے کے اصل اور تفصیلی طریقہ کار (Mechanism) کو سمجھ لیا ہے۔

اس حیران کن طبی تحقیق میں نہ صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ ادویات خلیاتی سطح پر بھوک کو کیسے کنٹرول کرتی ہیں، بلکہ اس دیرینہ معمہ کا جواب بھی مل گیا ہے کہ مختلف مریض ان دواؤں پر مختلف ردِعمل کیوں دیتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثر مریضوں پر ان ادویات کے اثرات کیوں کم ہونے لگتے ہیں۔

سائنس دانوں نے اس تحقیق کے لیے چوہوں کا سہارا لیا اور مٹاپے و ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے کیمیکل ‘سیماگلوٹائڈ’ (Semaglutide) کا دماغی خلیوں کے اندرونی نظام پر اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

لیبارٹری ٹیسٹس کے دوران ماہرین نے اعصابی خلیوں کے اندر پائے جانے والے چند ایسے مخصوص سگنلز اور کیمیائی سرگرمیوں (Chemical Signaling) کی نشاندہی کی، جو بظاہر وزن کم کرنے کے اس پورے عمل میں دوا کے اصل ’پاور ہاؤس‘ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سگنلز کا متحرک ہونا ہی جسم میں چربی پگھلانے اور بھوک مٹانے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک دنیا بھر کے سائنس دان صرف اس بات سے واقف تھے کہ جی ایل پی-1 (GLP-1) ادویات دماغ کے ان حصوں کو ہٹ کرتی ہیں جو انسانی بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرتے ہیں، لیکن یہ ایک راز تھا کہ نیورونز کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ دوا اصل میں کیا کیمیائی تبدیلیاں رونما کرتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو لوٹسکا نے اس تاریخی دریافت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا:

“ہمیں اب تک اس بات کی بہت کم اور محدود سمجھ تھی کہ یہ ادویات جن نیورونز کو نشانہ بناتی ہیں، اُن کے اندرونی خلیات کا اپنا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ اب ان خلیاتی باریکیوں اور گہرائی میں جا کر ہم ان پیچیدہ سوالات کے سائنسی جواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔”

سائنس دانوں کے مطابق اس نئی دریافت کی بدولت مستقبل میں نہ صرف موجودہ جی ایل پی-1 ادویات کے اثرات اور افادیت کو مزید کئی گنا بڑھایا جا سکے گا، بلکہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے موٹاپے کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور مؤثر ترین نئی ادویات تیار کرنے کا راستہ بھی صاف ہو گیا ہے۔