LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

مٹاپے کیخلاف جی ایل پی-1 ادویات دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟

Web Desk

26 May 2026

امریکہ کے مایہ ناز طبی تحقیقاتی ادارے ‘نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ’ (NIH) کے محققین نے وزن کم کرنے اور موٹاپے کے علاج کے لیے دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے والی ادویات (جنہیں طبی زبان میں جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹس کہا جاتا ہے) کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور انقلابی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سائنس دانوں نے پہلی بار دماغی خلیوں (نیورونز) کے اندر ان ادویات کے کام کرنے کے اصل اور تفصیلی طریقہ کار (Mechanism) کو سمجھ لیا ہے۔

اس حیران کن طبی تحقیق میں نہ صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ ادویات خلیاتی سطح پر بھوک کو کیسے کنٹرول کرتی ہیں، بلکہ اس دیرینہ معمہ کا جواب بھی مل گیا ہے کہ مختلف مریض ان دواؤں پر مختلف ردِعمل کیوں دیتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثر مریضوں پر ان ادویات کے اثرات کیوں کم ہونے لگتے ہیں۔

سائنس دانوں نے اس تحقیق کے لیے چوہوں کا سہارا لیا اور مٹاپے و ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے کیمیکل ‘سیماگلوٹائڈ’ (Semaglutide) کا دماغی خلیوں کے اندرونی نظام پر اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

لیبارٹری ٹیسٹس کے دوران ماہرین نے اعصابی خلیوں کے اندر پائے جانے والے چند ایسے مخصوص سگنلز اور کیمیائی سرگرمیوں (Chemical Signaling) کی نشاندہی کی، جو بظاہر وزن کم کرنے کے اس پورے عمل میں دوا کے اصل ’پاور ہاؤس‘ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سگنلز کا متحرک ہونا ہی جسم میں چربی پگھلانے اور بھوک مٹانے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک دنیا بھر کے سائنس دان صرف اس بات سے واقف تھے کہ جی ایل پی-1 (GLP-1) ادویات دماغ کے ان حصوں کو ہٹ کرتی ہیں جو انسانی بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرتے ہیں، لیکن یہ ایک راز تھا کہ نیورونز کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ دوا اصل میں کیا کیمیائی تبدیلیاں رونما کرتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف اینڈریو لوٹسکا نے اس تاریخی دریافت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا:

“ہمیں اب تک اس بات کی بہت کم اور محدود سمجھ تھی کہ یہ ادویات جن نیورونز کو نشانہ بناتی ہیں، اُن کے اندرونی خلیات کا اپنا نظام کیسے کام کرتا ہے۔ اب ان خلیاتی باریکیوں اور گہرائی میں جا کر ہم ان پیچیدہ سوالات کے سائنسی جواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔”

سائنس دانوں کے مطابق اس نئی دریافت کی بدولت مستقبل میں نہ صرف موجودہ جی ایل پی-1 ادویات کے اثرات اور افادیت کو مزید کئی گنا بڑھایا جا سکے گا، بلکہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے موٹاپے کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور مؤثر ترین نئی ادویات تیار کرنے کا راستہ بھی صاف ہو گیا ہے۔