LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

صوبائی حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

Web Desk

29 May 2026

 حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے “پنجاب لیبر کوڈ 2026” کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد اس نئے اور جامع لیبر کوڈ کو گزٹ میں شامل کر کے فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت پنجاب حکومت نے ماضی کے تمام بڑے اور بکھرے ہوئے لیبر قوانین کو یکجا کر کے ایک متفقہ فریم ورک تیار کیا ہے، جو صوبے کی تمام ورک پلیسز (کام کی جگہوں) پر بلا تفریق لاگو ہوگا۔ اس نئے قانون کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اسے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے عالمی اصولوں کے عین مطابق ڈھالا گیا ہے۔

پنجاب لیبر کوڈ 2026 کے ذریعے ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محنت کشوں کی نئی اقسام کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے:

  • ایپ بیسڈ ورکرز: فوڈ ڈیلیوری بوائز، آن لائن ایپس اور رائیڈ ہائلینگ سروسز (بائیکیا، ان ڈرائیو، اوبر وغیرہ) سے وابستہ ورکرز کو پہلی بار باقاعدہ مزدور کا درجہ دے کر قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔

  • آن لائن اور ریموٹ ورکرز: گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے (آن لائن/ریموٹ) ملازمین بھی اب لیبر لاء کے دائرے میں آئیں گے۔

  • دیگر محروم طبقات: ڈومیسٹک ورکرز (گھریلو ملازمین)، زرعی مزدور اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کو بھی اس یکساں لیبر فریم ورک کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کام کی جگہ پر خواتین یا کسی بھی ملازم کے ساتھ ہراسانی، بدتمیزی، اور تشدد کی صورت میں اب سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

قانون میں ملازمین کی تنخواہ کو خفیہ رکھنے (Pay Secrecy) کی کارپوریٹ پالیسیوں پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے تاکہ تنخواہوں میں شفافیت برقرار رہے۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کی جانب سے نوکری چھوڑنے والے ملازمین پر دوسری مسابقتی کمپنی میں کام کرنے پر عائد کی جانے والی پابندیوں (Non-compete clauses) کو بھی انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔

نئے ایکٹ کے تحت کنٹریکٹ (معاہدے) پر کام کرنے والے ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا اب کمپنیوں کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ مزید برآں، صوبے بھر میں جبری مشقت (بانڈڈ لیبر) اور چائلڈ لیبر (بچوں سے مزدوری لینے) کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی سخت اور کڑا قانونی فریم ورک منظور کیا گیا ہے، جس کی خلاف ورزی کرنے والے مالکان اور اداروں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔