LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

صوبائی حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

Web Desk

29 May 2026

 حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے “پنجاب لیبر کوڈ 2026” کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد اس نئے اور جامع لیبر کوڈ کو گزٹ میں شامل کر کے فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت پنجاب حکومت نے ماضی کے تمام بڑے اور بکھرے ہوئے لیبر قوانین کو یکجا کر کے ایک متفقہ فریم ورک تیار کیا ہے، جو صوبے کی تمام ورک پلیسز (کام کی جگہوں) پر بلا تفریق لاگو ہوگا۔ اس نئے قانون کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اسے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے عالمی اصولوں کے عین مطابق ڈھالا گیا ہے۔

پنجاب لیبر کوڈ 2026 کے ذریعے ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محنت کشوں کی نئی اقسام کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے:

  • ایپ بیسڈ ورکرز: فوڈ ڈیلیوری بوائز، آن لائن ایپس اور رائیڈ ہائلینگ سروسز (بائیکیا، ان ڈرائیو، اوبر وغیرہ) سے وابستہ ورکرز کو پہلی بار باقاعدہ مزدور کا درجہ دے کر قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔

  • آن لائن اور ریموٹ ورکرز: گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے (آن لائن/ریموٹ) ملازمین بھی اب لیبر لاء کے دائرے میں آئیں گے۔

  • دیگر محروم طبقات: ڈومیسٹک ورکرز (گھریلو ملازمین)، زرعی مزدور اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کو بھی اس یکساں لیبر فریم ورک کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کام کی جگہ پر خواتین یا کسی بھی ملازم کے ساتھ ہراسانی، بدتمیزی، اور تشدد کی صورت میں اب سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

قانون میں ملازمین کی تنخواہ کو خفیہ رکھنے (Pay Secrecy) کی کارپوریٹ پالیسیوں پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے تاکہ تنخواہوں میں شفافیت برقرار رہے۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کی جانب سے نوکری چھوڑنے والے ملازمین پر دوسری مسابقتی کمپنی میں کام کرنے پر عائد کی جانے والی پابندیوں (Non-compete clauses) کو بھی انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔

نئے ایکٹ کے تحت کنٹریکٹ (معاہدے) پر کام کرنے والے ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا اب کمپنیوں کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ مزید برآں، صوبے بھر میں جبری مشقت (بانڈڈ لیبر) اور چائلڈ لیبر (بچوں سے مزدوری لینے) کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی سخت اور کڑا قانونی فریم ورک منظور کیا گیا ہے، جس کی خلاف ورزی کرنے والے مالکان اور اداروں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔