LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

معروف شاعر بشیر بدر 91برس کی عمر میں بھوپال میں انتقال کر گئے

Web Desk

28 May 2026

معروف اردو شاعر بشیر بدر طویل علالت کے بعد 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، ان کے انتقال کی خبر کے بعد ادبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی فضا چھا گئی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بشیر بدر گزشتہ کئی برس سے دماغی عارضے میں مبتلا تھے اور تقریباً ایک دہائی سے صاحب فراش تھے۔ وہ بھارتی شہر بھوپال میں انتقال کر گئے۔

بشیر بدر جدید اردو غزل کے اہم اور مقبول شاعر مانے جاتے تھے جنہوں نے اپنی شاعری میں محبت، تنہائی، ہجرت اور انسانی جذبات کو نہایت سادہ اور دلکش انداز میں پیش کیا۔

ان کی شاعری عام قاری سے لے کر ادبی حلقوں تک یکساں مقبول رہی اور ان کے کئی اشعار زبان زد عام ہیں۔ وہ اپنی منفرد اسلوب اور سادہ بیان کی وجہ سے اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔

بھارتی حکومت نے انہیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

ان کے انتقال کے بعد دنیا بھر میں اردو ادب سے وابستہ افراد نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہیں جدید غزل کا ایک روشن باب قرار دیا جا رہا ہے۔