LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی

چینی سائنس دانوں نے پیس میکر کا متبادل تیار کرلیا

Web Desk

26 May 2026

طبی تحقیق اور کارڈیک سائنس (دل کے امراض) کے میدان میں چین کے ماہرین نے ایک ایسی حیران کن اور انقلابی کامیابی حاصل کی ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں دل کے مریضوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ چینی محققین نے لیبارٹری کے اندر مصنوعی طور پر دنیا کا پہلا حیاتیاتی ’سائنو ایٹریل نوڈ‘ (Sinoatrial Node / SA Node) کامیابی سے تیار کر لیا ہے۔

سائنو ایٹریل نوڈ انسانی دل کے اندر موجود ایک نہایت ہی باریک اور چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے، جسے سائنس کی زبان میں دل کا ’قدرتی پیس میکر‘ کہا جاتا ہے۔ انسانی جسم میں یہی وہ مرکزی حصہ ہے جس کی بدولت دل مسلسل، بغیر رکے اور ایک خاص ترتیب کے ساتھ دھڑکتا رہتا ہے۔

انسانی دل کے نظام میں اس نوڈ کی اہمیت درج ذیل خلیاتی نظام سے واضح ہوتی ہے:

  • برقی سگنلز کی پیدائش: یہ نوڈ دل کے دائیں ایٹریئم (Right Atrium) میں واقع ہوتا ہے اور مسلسل برقی سگنلز (Electrical Signals) پیدا کرتا ہے۔

  • دھڑکن کا کنٹرول: یہ سگنلز اعصابی نظام کے براہِ راست کنٹرول میں رہتے ہیں اور دل کے اوپری اور نچلے چیمبرز کو ایک خاص ترتیب سے سکڑنے اور پھیلنے کا حکم دیتے ہیں۔

  • خون کی گردش: اسی برقی نظام کی بدولت پورے جسم میں خون انتہائی مؤثر طریقے سے گردش کرتا ہے۔ اگر یہ قدرتی پیس میکر خراب ہو جائے، تو دل کی دھڑکن خطرناک حد تک سست ہو جاتی ہے یا رک بھی سکتی ہے، جو فوری موت کا سبب بنتی ہے۔

اس سے قبل دل کا یہ قدرتی پیس میکر خراب ہونے کی صورت میں مریضوں کے جسم میں آپریشن کے ذریعے مصنوعی برقی پیس میکر ڈیوائس لگائی جاتی تھی، جس کی بیٹریاں وقت کے ساتھ بدلنا پڑتی ہیں۔ تاہم، چینی سائنس دانوں نے اس کا حیاتیاتی حل تلاش کر لیا ہے۔

محققین نے انسانی پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز (Human Pluripotent Stem Cells) کا استعمال کرتے ہوئے ایک جدید ترین تھری ڈی (3D) لیبارٹری ماڈل تیار کیا ہے۔ یہ ماڈل بالکل اصل سائنو ایٹریل نوڈ کی طرح کام کرتا ہے اور اس کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ لیبارٹری کے اندر خود بخود دھڑکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ ایجاد کارڈیالوجی کی دنیا میں ایک بہت بڑا قدم ہے۔ اس کامیابی کے دور رس نتائج درج ذیل صورتوں میں سامنے آئیں گے:

  1. نئی ادویات کی جانچ: دل کے امراض کے لیے بننے والی نئی ادویات کا تجربہ اب اس لائیو ماڈل پر انتہائی درستگی کے ساتھ کیا جا سکے گا۔

  2. حیاتیاتی پیس میکر (Biological Pacemaker): مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے اندر مستقل علاج کے طور پر استعمال ہوگی، جہاں کسی میکانکی ڈیوائس کے بجائے اسٹیم سیلز سے بنا یہ قدرتی نوڈ مریض کے دل میں ٹرانسپلانٹ کر دیا جائے گا، جو دل کی بے ترتیب دھڑکنوں (Arrhythmia) کو ہمیشہ کے لیے ٹھیک کر دے گا۔