LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا نقصان ہوا ، نیپرا رپورٹ جاری

Web Desk

25 February 2026

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ برائے 2024-25 جاری کر دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمپنیوں نے ایک سال کے دوران قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

رپورٹ کے مطابق یہ نقصان ترسیل و تقسیم کے نقصانات اور بجلی بلوں کی کم وصولیوں کی مد میں ہوا۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ترسیل اور تقسیم کے شعبے میں 265 ارب روپے جبکہ کم ریکوری کی مد میں 207 ارب روپے کا خسارہ سامنے آیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقسیم کار کمپنیاں ترسیل و تقسیم کے نقصانات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، جس کے باعث شعبہ توانائی کو مستقل چیلنجز کا سامنا ہے۔

اتھارٹی نے بجلی بلوں کی کم وصولیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان نقصانات کے نتیجے میں گردشی قرض میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جو قومی معیشت پر بوجھ بنتا جا رہا ہے۔