LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور

تپِ دق کے خلاف نئی تجرباتی ویکسین تیار

Web Desk

9 July 2026

واشنگٹن: طبی ماہرین اور سائنس دانوں نے تپِ دق (ٹی بی) کے مہلک مرض کے خلاف ناک کے ذریعے دی جانے والی (نیسل) ایک نئی تجرباتی ویکسین تیار کر لی ہے۔ اس نیسل ویکسین کے جانوروں پر ہونے والے ابتدائی تجربات سے انتہائی حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں، جن کی تفصیلات معروف طبی جریدے ‘جرنل آف کلینیکل انویسٹیگیشن’ میں شائع کی گئی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سال 2024ء میں تپِ دق دنیا بھر میں کسی ایک ہی جرثومے (بیکٹیریا) سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ بن گئی تھی، جس نے ہلاکتوں کے معاملے میں کورونا وائرس (Covid-19) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

اگرچہ مارکیٹ میں موجود اینٹی بائیوٹک ادویات ٹی بی کے خلاف مؤثر ثابت ہوتی ہیں، تاہم اس کا 6 ماہ پر مشتمل طویل اور پیچیدہ کورس مریضوں کے لیے مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اکثر مریض علاج ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے باعث بیماری دوبارہ ابھرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔جراثیم میں دوا کے خلاف مزاحمت (اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس) پیدا ہو جاتی ہے۔

اسی سنگین مسئلے کے پیشِ نظر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) تپِ دق کے خلاف نئی ویکسینز کی تیاری کی بھرپور حمایت کر رہی ہے تاکہ موجودہ علاج کو مزید مؤثر بنا کر اس کا دورانیہ کم کیا جا سکے۔

امریکہ کی مشہور ‘جانز ہاپکنز یونیورسٹی’ کے محققین نے یہ تجرباتی ڈی این اے نیسل ویکسین تیار کی ہے، جس میں $relMtb$ اور $Mip3\alpha$ نامی دو مخصوص جینز کو یکجا کیا گیا ہے۔تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور جانز ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسٹائلیانی کارانیکا کے مطابق، ٹی بی کے جراثیم میں موجود $relMtb$ جین ایک ایسا پروٹین بناتا ہے جو بیکٹیریا کو اینٹی بائیوٹکس، آکسیجن کی کمی اور غذائی قلت جیسے انتہائی مشکل حالات میں بھی زندہ رکھتا ہے۔ نئی ویکسین کا بنیادی مقصد اسی حفاظتی نظام کو نشانہ بنا کر جراثیم کے خلاف انسانی جسم کے مدافعتی نظام (امیون سسٹم) کو متحرک اور مضبوط بنانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ وقتوں میں انسانوں پر ہونے والے کلینیکل ٹرائلز (آزمائشوں) میں بھی یہی مثبت نتائج سامنے آئے، تو یہ ویکسین مستقبل میں تپِ دق کے خاتمے اور اس کی روک تھام میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو گی۔