LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک

Web Desk

16 September 2026

جرمنی کے علاقے میں ہالینڈ کی سرحد کے قریب ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تینوں ڈچ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہالینڈ کی وزارتِ خارجہ نے حادثے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 57 اور 58 سالہ دو مرد اور 23 سالہ ایک خاتون شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طیارے نے ڈچ شہر ہلورسوم کے ایک چھوٹے ہوائی اڈے سے پرواز کی تھی، جس کے بعد جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر ایرکلنز کے قریب اس کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہو گیا اور وہ تباہ ہو گیا۔

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ہالینڈ کے ایک فلائٹ اسکول میں رجسٹرڈ تھا، جس کی انتظامیہ نے تحقیقات مکمل ہونے تک اپنی تمام پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔ واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ہالینڈ کے سیفٹی بورڈ کے دو فضائی تحقیقاتی ماہرین کو بھی جرمنی روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر حادثے کا سبب بننے والے فنی یا ماحولیاتی عوامل کا تعین کر سکیں۔