LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا

Web Desk

16 September 2026

لیتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس اور اس کے گردونواح میں منگل کے روز نصف شب کے کچھ دیر بعد اس وقت فضائی خطرے کا الرٹ جاری کر دیا گیا جب ایک نامعلوم ڈرون غیر قانونی طور پر ملک کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیتھوانیا کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سینٹر (NKVC) نے صورتِ حال کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر نیٹو (NATO) کے لڑاکا طیاروں کو فضائی کارروائی کے لیے روانہ کیا۔

ابتدائی الرٹ کے تقریباً 30 منٹ بعد حکام نے اعلان کیا کہ نیٹو کے جنگی طیاروں نے کاؤنَس کے علاقے کے اوپر فضا میں ڈرون کو کامیابی سے تباہ کر دیا، جس کے بعد شہریوں کے لیے جاری کردہ فضائی خطرے کا الرٹ واپس لے لیا گیا۔ نیشنل کرائسز مینجمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر ولمانتاس وٹکاؤسکاس نے تصدیق کی کہ ڈرون کی موجودگی کا پتہ چلتے ہی فوری اور مؤثر دفاعی اقدام کیا گیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈرون کی ملکیت اور اس کے مقصد کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور تفصیلی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔