LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی: وزیر خزانہ کا دعویٰ پٹرول 6 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 62 پیسے فی لٹر مہنگا گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کا خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی عمارت منہدم، 21 فلسطینی جاں بحق سعودی عرب کی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت امریکی نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات آئس برگ کا صرف سرا ہیں: عراقچی ایرانی وزارت خارجہ کی جرمن چانسلر پر تنقید، ایران کے خلاف بیانیہ مسترد امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کے تابع نہیں، قومی مفادات مقدم ہیں: جے ڈی وینس ایشین چیمپئنز ٹرافی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان ہاکی فیڈریشن کا نیوٹرل وینیو کا بڑا مطالبہ عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت

خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

Web Desk

15 September 2026

ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوبصورتی اور گھنی پلکوں کے لیے کروائی جانے والی “آئی لیش ایکسٹینشنز” (مصنوعی پلکیں) خواتین کو خوردبینی کیڑوں یا مائٹس (Mites) کی ناخوشگوار افزائش کا شکار بنا سکتی ہیں، جو پلکوں کی جڑوں میں داخل ہو کر بینائی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹو سرجنز (ESCRS) کی 44 ویں کانگریس میں یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے اس طریقہ کار کے نقصانات پر مبنی شواہد پیش کیے۔ تحقیق کے مطابق، باقاعدگی سے آئی لیش ایکسٹینشنز کروانے والی 96 فیصد خواتین کی پلکوں میں یہ خوردبینی جاندار پائے گئے۔

طبی زبان میں ‘ڈیموڈیکس’ (Demodex) کہلانے والے یہ مائٹس مصنوعی پلکوں کو چپکانے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیائی گلو اور جمع ہونے والے مردہ جلدی خلیات (Dead Skin Cells) کو بطور خوراک استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، آئی لیش ایکسٹینشنز مردہ مائٹس کو بھی وہیں پھنسا کر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے وہ قدرتی طور پر جسم سے خارج نہیں ہو پاتے اور آنکھوں میں خارش، جلد کے خشک ہونے اور دھندلا نظر آنے جیسے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر تاتیانا ژمود اور ان کی ٹیم نے 16 سے 28 سال کی 345 خواتین پر تحقیق کی، جس میں سے نصف خواتین ہر تین سے چار ہفتے بعد یہ بیوٹی ٹریٹمنٹ کرواتی تھیں، جبکہ 48 فیصد نے آنکھوں میں سرخی اور شدید تکلیف کی شکایت کی۔ ماہرین امراضِ چشم نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ جیسے ممالک میں جہاں ہر ہفتے 1 لاکھ 29 ہزار سے زائد آئی لیش ایکسٹینشنز کے پراسیجرز کیے جاتے ہیں، وہاں اس عمل کے باعث آنکھوں کے دائمی امراض پھیلنے کے خطرات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔