LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکراگیا؛ خوفناک آگ بھڑک اُٹھی مولانا فضل الرحمان کا وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی سے رابطہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی میں شمولیت پر غور ریاض ایئرپورٹ حملہ، پروازیں منسوخ، کینیڈا سمیت متعدد ممالک کی سفری ہدایات امریکا میں فائرنگ کا ہولناک واقعہ، 9 افراد ہلاک، 2 بچے بھی شامل صوابی میں ہمارا پلان سن کر مخالفین کے ہوش اڑ جائیں گے، سہیل آفریدی کراچی؛ آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن امریکی حملوں کا جواب دینے کیلیے ایران نے روس کی مدد سے میزائل اور ڈرون پروگرام بحال کرلیے اگر امریکا دوبارہ حملے کرتا ہے تو ایران مؤثر جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ٹانک میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ڈی جی الیکشن کمیشن شمشاد خان شہید بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک بھارت: الیکشن کمشنر کیخلاف احتجاج پر پولیس کا کریک ڈاؤن، اہم سیاسی رہنماؤں سمیت سیکڑوں مظاہرین زیر حراست وزیراعلیٰ سندھ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی مشروط حمایت کردی پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو وزیراعظم سے ملاقات نہیں کریں گے: امیر جماعت اسلامی مذاکرات کیلئے مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا کوئی علم نہیں: شوکت یوسفزئی ویب ڈیسک Time 10 اکتوبر ، 2026 Facebook Twitter دنیا فوجی اڈے کے حملہ آور کی سزائے موت کو براہ راست دکھانے کا فیصلہ نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

Web Desk

15 September 2026

ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوبصورتی اور گھنی پلکوں کے لیے کروائی جانے والی “آئی لیش ایکسٹینشنز” (مصنوعی پلکیں) خواتین کو خوردبینی کیڑوں یا مائٹس (Mites) کی ناخوشگوار افزائش کا شکار بنا سکتی ہیں، جو پلکوں کی جڑوں میں داخل ہو کر بینائی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹو سرجنز (ESCRS) کی 44 ویں کانگریس میں یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے اس طریقہ کار کے نقصانات پر مبنی شواہد پیش کیے۔ تحقیق کے مطابق، باقاعدگی سے آئی لیش ایکسٹینشنز کروانے والی 96 فیصد خواتین کی پلکوں میں یہ خوردبینی جاندار پائے گئے۔

طبی زبان میں ‘ڈیموڈیکس’ (Demodex) کہلانے والے یہ مائٹس مصنوعی پلکوں کو چپکانے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیائی گلو اور جمع ہونے والے مردہ جلدی خلیات (Dead Skin Cells) کو بطور خوراک استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، آئی لیش ایکسٹینشنز مردہ مائٹس کو بھی وہیں پھنسا کر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے وہ قدرتی طور پر جسم سے خارج نہیں ہو پاتے اور آنکھوں میں خارش، جلد کے خشک ہونے اور دھندلا نظر آنے جیسے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر تاتیانا ژمود اور ان کی ٹیم نے 16 سے 28 سال کی 345 خواتین پر تحقیق کی، جس میں سے نصف خواتین ہر تین سے چار ہفتے بعد یہ بیوٹی ٹریٹمنٹ کرواتی تھیں، جبکہ 48 فیصد نے آنکھوں میں سرخی اور شدید تکلیف کی شکایت کی۔ ماہرین امراضِ چشم نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ جیسے ممالک میں جہاں ہر ہفتے 1 لاکھ 29 ہزار سے زائد آئی لیش ایکسٹینشنز کے پراسیجرز کیے جاتے ہیں، وہاں اس عمل کے باعث آنکھوں کے دائمی امراض پھیلنے کے خطرات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔