LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان طالبان ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں کی معاونت ختم کریں: پاکستان وزیراعظم سے لاہور چیمبر آف کامرس کے فاؤنڈرز گروپ کے وفد کی ملاقات جج پر مبینہ رشوت کا الزام: لاہور بار کا وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف ’پیکا ایکٹ‘ تحت مقدمہ درج کرانے کا اعلان پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت پائیداری میں اہم پیش رفت کر رہی ہے: برطانوی ہائی کمشنر اسحاق ڈار کی ایس سی او اجلاس کیلئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت آصفہ بھٹو کی یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹر میں یومِ اقوامِ متحدہ کی تقریب میں شرکت فرانس میں مزدوروں کے اعلان کے بعد دوبارہ مظاہرے شروع، 135 گرفتار پی ٹی آئی میں اختلافات، بیرسٹر گوہر نے واضح ہدایات جاری کردیں پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کل پاکستان پہنچیں گی وزیراعظم کا دسمبر کے پہلے ہفتے میں دورۂ روس متوقع: ذرائع آئی ٹی کے شعبے میں 40 ارب ڈالر کے مواقع موجود ہیں: حافظ نعیم الرحمان پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی زلمے خلیل زاد کا پاکستان پر افغانوں کو طالبان کیخلاف استعمال کرنے کا الزام، فیکٹ چیک جاری وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس متوقع، صدر پوتن سے ملاقات ہوگی پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور

خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

Web Desk

15 September 2026

ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خوبصورتی اور گھنی پلکوں کے لیے کروائی جانے والی “آئی لیش ایکسٹینشنز” (مصنوعی پلکیں) خواتین کو خوردبینی کیڑوں یا مائٹس (Mites) کی ناخوشگوار افزائش کا شکار بنا سکتی ہیں، جو پلکوں کی جڑوں میں داخل ہو کر بینائی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹو سرجنز (ESCRS) کی 44 ویں کانگریس میں یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے اس طریقہ کار کے نقصانات پر مبنی شواہد پیش کیے۔ تحقیق کے مطابق، باقاعدگی سے آئی لیش ایکسٹینشنز کروانے والی 96 فیصد خواتین کی پلکوں میں یہ خوردبینی جاندار پائے گئے۔

طبی زبان میں ‘ڈیموڈیکس’ (Demodex) کہلانے والے یہ مائٹس مصنوعی پلکوں کو چپکانے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیائی گلو اور جمع ہونے والے مردہ جلدی خلیات (Dead Skin Cells) کو بطور خوراک استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، آئی لیش ایکسٹینشنز مردہ مائٹس کو بھی وہیں پھنسا کر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے وہ قدرتی طور پر جسم سے خارج نہیں ہو پاتے اور آنکھوں میں خارش، جلد کے خشک ہونے اور دھندلا نظر آنے جیسے مسائل پیدا کرتے ہیں۔

ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر تاتیانا ژمود اور ان کی ٹیم نے 16 سے 28 سال کی 345 خواتین پر تحقیق کی، جس میں سے نصف خواتین ہر تین سے چار ہفتے بعد یہ بیوٹی ٹریٹمنٹ کرواتی تھیں، جبکہ 48 فیصد نے آنکھوں میں سرخی اور شدید تکلیف کی شکایت کی۔ ماہرین امراضِ چشم نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ جیسے ممالک میں جہاں ہر ہفتے 1 لاکھ 29 ہزار سے زائد آئی لیش ایکسٹینشنز کے پراسیجرز کیے جاتے ہیں، وہاں اس عمل کے باعث آنکھوں کے دائمی امراض پھیلنے کے خطرات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔