LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی امریکا کو پاکستان سے تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے: مارکو روبیو مولانا فضل الرحمان غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں، فرح عظیم شاہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے: امریکی وزیر خارجہ جام کمال خان کی زیر صدارت اجلاس، برآمدات میں اضافے اور صنعتی مسائل کے حل پر غور حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1514 ارب روپے قرض لیا اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت گندم درآمد سے متعلق اجلاس، ملکی ذخائر اور طلب و رسد کا جائزہ نیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی ہدایت دی، امریکی مخالفت پر منصوبہ رک گیا: برطانوی اخبار روس یوکرین کے ساتھ سہ فریقی امن مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر آمادہ فرانسیسی صدر میکرون کا سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ، ولی عہد سے ملاقات متوقع امریکی شہر ٹولیڈو میں زہریلے کیمیکل کا ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا ترکیہ کا سعودی عرب میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے دفاعی تعاون بڑھانے کے معاہدے پر دستخط نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ، سیاسی رہنماؤں کا انتظامی یونٹس بڑھانے پر زور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مبینہ حراست: پشاور ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، آئی جی اور چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب

ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی

Web Desk

16 September 2026

سعودی عرب نے اپنی اہم ‘ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن’ (East-West Pipeline) پر ڈرون حملوں کے بعد یورپی ممالک کے لیے خام تیل کی متعدد سپلائیز منسوخ کر دی ہیں، جس کے باعث عالمی انرجی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور یورپی خریداروں نے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کر دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق تجارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے یورپی صارفین کو ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے کئی کارگو کی منسوخی سے آگاہ کر دیا ہے، جبکہ بحیرہ احمر پر واقع ینبع کی اہم بندرگاہ سے بھی تیل کی لوڈنگ کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان ڈرون حملوں کا الزام ایک عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔

ان حملوں کے نتیجے میں سعودی حکام نے مشرق سے مغرب تک پھیلی اس اہم پائپ لائن کو بند کر دیا ہے، جو گزشتہ چھ ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے سعودی تیل کی برآمدات کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھی۔ اس بندش کے بعد بالخصوص پولینڈ سمیت دیگر یورپی ممالک نے سپلائی میں متوقع کمی کو پورا کرنے کے لیے فوری متبادل راستے اور نئے سپلائرز تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق، سعودی عرب اب ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے ‘ڈارک شپمنٹس’ کے غیر روایتی طریقوں سے تیل برآمد کرنے پر غور کر سکتا ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق پہلے ہی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسی خفیہ ترسیلات کے ذریعے خلیجی ممالک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 30 سے 40 فیصد یعنی تقریباً 70 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی برآمدات برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔