LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ڈی ایف سی وفد سے ملاقات: زراعت، توانائی اور معدنیات میں تعاون کا اعادہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات: اقتصادی تعاون اور امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑ گئی، ملک کے اندر اور باہر شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کیلئے کانگریس سے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لئے جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران فرانسیسی ایئرلائن نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کر دیں سعودیہ کا ملٹی پل عمرہ ویز متعارف، قیام کی انتہائی حد 90 روز مقرر آئی ایم ایف کا یوکرین کو 690 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان چین نے جاپانی کے نام نہاد تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا فلائی دبئی کی شام کے شہر حلب کیلئے روزانہ براہ راست پروازیں شروع اسرائیلی فوج کا غزہ میں مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی 4 بچوں سمیت شہید ایران جنگ میں امریکا کو جھونکنے والا اسرائیل پیچھے ہوگیا یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے برطرف کر دیا ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی اربیل ایئرپورٹ میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل

20 سال میں کام اور پیسہ غیر اہم ہوجائیں گے، کرنسی کا تصور بدل جائے گا: ایلون مسک

Web Desk

21 November 2025

ٹیکنالوجی کی دنیا کے سرکردہ ترین نام اور عالمی امیر شخصیات میں شامل ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں دنیا ایسی تبدیلیوں سے گزرے گی جن کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ سعودی سرمایہ کاری فورم کے ایک خصوصی سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹ دنیا کی “سب سے بڑی ایجاد” بن کر سامنے آئیں گے۔

مسک نے بتایا کہ یہ جدید روبوٹس بے مثال صلاحیتوں سے لیس ہوں گے جو لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر نئی شکل دیں گے۔ ان کے مطابق صنعتی پیداوار سے لے کر مختلف سروس سیکٹرز تک، روبوٹکس کی بدولت نئے مواقع جنم لیں گے اور معیشت کے پورے ڈھانچے پر گہرا اثر پڑے گا۔

ایلون مسک نے کہا کہ ان روبوٹس کے آنے سے پیداواری صلاحیت کا تصور ہی بدل جائے گا، معیشت مضبوط ہوگی اور غربت کم ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں آئندہ 10 سے 20 سال میں کام اور پیسے کے روایتی تصورات غیر اہم ہو جائیں گے۔

ان کے مطابق مستقبل میں کام کرنا انسانوں کے لیے لازمی ضرورت نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ذاتی انتخاب بن جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے ورزش کرنا یا کوئی شوق پورا کرنا۔ مسک کا کہنا ہے کہ ذہین روبوٹ زیادہ تر پیداواری اور خدماتی کام نہ صرف بہتر کارکردگی بلکہ کم لاگت میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔