LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نہال ہاشمی نے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا تہران میں زور دار دھماکا، القدس ریلی کے شرکاء بے خوف آگے بڑھتے رہے پیٹرولیم ڈیلرز کی حکومت کو 26 مارچ تک ڈیڈ لائن، مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں پمپ بند کرنے کی دھمکی ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری جمعة الوداع کے اجتماعات، یوم القدس کی ریلیاں، سکیورٹی ہائی الرٹ ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ گئیں مشرقِ وسطیٰ کیلئے پاکستان سے پروازوں کا آپریشن بتدریج بحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کر دیا امریکی ایندھن بردار طیارہ عراق میں گر کر تباہ، 6 افراد سوار تھے

20 سال میں کام اور پیسہ غیر اہم ہوجائیں گے، کرنسی کا تصور بدل جائے گا: ایلون مسک

Web Desk

21 November 2025

ٹیکنالوجی کی دنیا کے سرکردہ ترین نام اور عالمی امیر شخصیات میں شامل ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں دنیا ایسی تبدیلیوں سے گزرے گی جن کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ سعودی سرمایہ کاری فورم کے ایک خصوصی سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹ دنیا کی “سب سے بڑی ایجاد” بن کر سامنے آئیں گے۔

مسک نے بتایا کہ یہ جدید روبوٹس بے مثال صلاحیتوں سے لیس ہوں گے جو لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر نئی شکل دیں گے۔ ان کے مطابق صنعتی پیداوار سے لے کر مختلف سروس سیکٹرز تک، روبوٹکس کی بدولت نئے مواقع جنم لیں گے اور معیشت کے پورے ڈھانچے پر گہرا اثر پڑے گا۔

ایلون مسک نے کہا کہ ان روبوٹس کے آنے سے پیداواری صلاحیت کا تصور ہی بدل جائے گا، معیشت مضبوط ہوگی اور غربت کم ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں آئندہ 10 سے 20 سال میں کام اور پیسے کے روایتی تصورات غیر اہم ہو جائیں گے۔

ان کے مطابق مستقبل میں کام کرنا انسانوں کے لیے لازمی ضرورت نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ذاتی انتخاب بن جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے ورزش کرنا یا کوئی شوق پورا کرنا۔ مسک کا کہنا ہے کہ ذہین روبوٹ زیادہ تر پیداواری اور خدماتی کام نہ صرف بہتر کارکردگی بلکہ کم لاگت میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔