LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

20 سال میں کام اور پیسہ غیر اہم ہوجائیں گے، کرنسی کا تصور بدل جائے گا: ایلون مسک

Web Desk

21 November 2025

ٹیکنالوجی کی دنیا کے سرکردہ ترین نام اور عالمی امیر شخصیات میں شامل ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں دنیا ایسی تبدیلیوں سے گزرے گی جن کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ سعودی سرمایہ کاری فورم کے ایک خصوصی سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹ دنیا کی “سب سے بڑی ایجاد” بن کر سامنے آئیں گے۔

مسک نے بتایا کہ یہ جدید روبوٹس بے مثال صلاحیتوں سے لیس ہوں گے جو لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر نئی شکل دیں گے۔ ان کے مطابق صنعتی پیداوار سے لے کر مختلف سروس سیکٹرز تک، روبوٹکس کی بدولت نئے مواقع جنم لیں گے اور معیشت کے پورے ڈھانچے پر گہرا اثر پڑے گا۔

ایلون مسک نے کہا کہ ان روبوٹس کے آنے سے پیداواری صلاحیت کا تصور ہی بدل جائے گا، معیشت مضبوط ہوگی اور غربت کم ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں آئندہ 10 سے 20 سال میں کام اور پیسے کے روایتی تصورات غیر اہم ہو جائیں گے۔

ان کے مطابق مستقبل میں کام کرنا انسانوں کے لیے لازمی ضرورت نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ذاتی انتخاب بن جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے ورزش کرنا یا کوئی شوق پورا کرنا۔ مسک کا کہنا ہے کہ ذہین روبوٹ زیادہ تر پیداواری اور خدماتی کام نہ صرف بہتر کارکردگی بلکہ کم لاگت میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔