LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسے مردِ آہن بنا کر پیش کیا گیا، آج اسی کی جماعت ہسپتال منتقلی کی فریاد کر رہی: وزیر دفاع آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

20 سال میں کام اور پیسہ غیر اہم ہوجائیں گے، کرنسی کا تصور بدل جائے گا: ایلون مسک

Web Desk

21 November 2025

ٹیکنالوجی کی دنیا کے سرکردہ ترین نام اور عالمی امیر شخصیات میں شامل ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں دنیا ایسی تبدیلیوں سے گزرے گی جن کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ سعودی سرمایہ کاری فورم کے ایک خصوصی سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹ دنیا کی “سب سے بڑی ایجاد” بن کر سامنے آئیں گے۔

مسک نے بتایا کہ یہ جدید روبوٹس بے مثال صلاحیتوں سے لیس ہوں گے جو لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر نئی شکل دیں گے۔ ان کے مطابق صنعتی پیداوار سے لے کر مختلف سروس سیکٹرز تک، روبوٹکس کی بدولت نئے مواقع جنم لیں گے اور معیشت کے پورے ڈھانچے پر گہرا اثر پڑے گا۔

ایلون مسک نے کہا کہ ان روبوٹس کے آنے سے پیداواری صلاحیت کا تصور ہی بدل جائے گا، معیشت مضبوط ہوگی اور غربت کم ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں آئندہ 10 سے 20 سال میں کام اور پیسے کے روایتی تصورات غیر اہم ہو جائیں گے۔

ان کے مطابق مستقبل میں کام کرنا انسانوں کے لیے لازمی ضرورت نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ذاتی انتخاب بن جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے ورزش کرنا یا کوئی شوق پورا کرنا۔ مسک کا کہنا ہے کہ ذہین روبوٹ زیادہ تر پیداواری اور خدماتی کام نہ صرف بہتر کارکردگی بلکہ کم لاگت میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔