LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز اسحاق ڈار سے ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کا ٹیلی فونک رابطہ، مختلف امور پر تبادلہ خیال حیدرآباد میں بی آئی ایس پی مستحقین سے غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار یوکرین کو بحیرہ کیسپین میں جہاز پر حملے کا جواب دیا جائے گا: ایران کی دھمکی سویوز ایم ایس-28 خلائی جہاز آئی ایس ایس سے روانہ، تین خلا باز زمین واپسی کے سفر پر آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گی: احسن اقبال الیکشن کیلئے 17 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات، انتخابی عمل کا آغاز آج سے ہوگا: چیف سیکرٹری آزاد کشمیر فیروزوالہ میں بند ٹوٹنے سے ایک ہی گھر کے تین بچے پانی میں ڈوب کر جاں بحق

20 سال میں کام اور پیسہ غیر اہم ہوجائیں گے، کرنسی کا تصور بدل جائے گا: ایلون مسک

Web Desk

21 November 2025

ٹیکنالوجی کی دنیا کے سرکردہ ترین نام اور عالمی امیر شخصیات میں شامل ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں دنیا ایسی تبدیلیوں سے گزرے گی جن کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ سعودی سرمایہ کاری فورم کے ایک خصوصی سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹ دنیا کی “سب سے بڑی ایجاد” بن کر سامنے آئیں گے۔

مسک نے بتایا کہ یہ جدید روبوٹس بے مثال صلاحیتوں سے لیس ہوں گے جو لیبر مارکیٹ کو مکمل طور پر نئی شکل دیں گے۔ ان کے مطابق صنعتی پیداوار سے لے کر مختلف سروس سیکٹرز تک، روبوٹکس کی بدولت نئے مواقع جنم لیں گے اور معیشت کے پورے ڈھانچے پر گہرا اثر پڑے گا۔

ایلون مسک نے کہا کہ ان روبوٹس کے آنے سے پیداواری صلاحیت کا تصور ہی بدل جائے گا، معیشت مضبوط ہوگی اور غربت کم ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں آئندہ 10 سے 20 سال میں کام اور پیسے کے روایتی تصورات غیر اہم ہو جائیں گے۔

ان کے مطابق مستقبل میں کام کرنا انسانوں کے لیے لازمی ضرورت نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ذاتی انتخاب بن جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے ورزش کرنا یا کوئی شوق پورا کرنا۔ مسک کا کہنا ہے کہ ذہین روبوٹ زیادہ تر پیداواری اور خدماتی کام نہ صرف بہتر کارکردگی بلکہ کم لاگت میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔